قرآن کی روشنی میں تسکین قلب

تحریر : سید نظام الدین چشتی

آج کے مادی دور میں تسکین قلب کو دنیاوی آرام و آسائش کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ ہر شخص کو اس دور میں مذہبی اور معاشرتی طور پر دباو کا سامنا ہے جس کی وجہ سے وہ اخلاقی اقدار کو پس پشت ڈال کر خودغرضی اور جھوٹ کی بنیاد پر دھوکہ دہی سے حاصل کی جانے والی دنیاوی سہولیات کو تسکین قلب کا نام دیتا ہے۔

اس جرم میں نہ صرف مذہبی اکابر بلکہ معاشرتی اسکالر بھی برابر کے شریک ہیں۔

جبکہ تسکین قلب اللہ کا دیا ہوا عطیہ ہے۔جو کہ اللہ اپنے نیک بندوں کو انعام کی صورت میں عطا کرتا ہے۔

اللہ تبارک وتعالی سے تعلق قائم کرنے اور تسکین قلب کا حصول قرآن مجید میں بھی بیان کیا گیا ہے ۔ قرآن پاک میں تسکین قلب کو سکینہ کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے اور عربی زبان میں بھی تسکین قلب کو سکینہ کہا جاتا ہے۔ جس کے معنی تسلی، اطمینان اور سکون کے ہیں۔

سب سے پہلے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 248 میں تسکین قلب کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ ترجمہ:” اور بنی اسرائیل سے ان کے نبی نے کہا کہ طالوت کی بادشاہی کی یہ نشانی ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق واپس آئے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے اطمینان (تسلی) ہے، اور کچھ بچی ہوئی چیزیں ہیں ان میں سے جو موسیٰ اور ہارون کی اولاد چھوڑ گئی تھی، اس صندوق کو فرشتے اٹھا لائیں گے، بے شک اس میں تمہارے لیے پوری نشانی ہے اگر تم ایمان والے ہو۔”

اس آیت میں سکینہ (تسکین/اطمینان/تسلی) کا لفظ تابوت سکینہ کیلئے استعمال کیا گیا ہے ۔ جس میں اللہ تعالی نے اپنی رحمت کی نشانی دکھائی ہیں۔تفسیر ابن کثیر میں اس تابوت سکینہ سے متعلق لکھتے ہوئے حضرت طالوت ؑ کی جالوت کے ساتھ ہونے والی جنگ کا ذکر کیا گیا ہے اور حضرت طالوت ؑ کی بادشاہت کے متعلق بتایا گیا ہے جبکہ طالوت کے ظلم و جبر کے بارے میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ جس کو حضرت داود ؑ نے قتل کیا ۔


انسان کسی چیز یا شے سے اطمینان قلب یا تسکین قلب حاصل نہیں کرسکتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ انسانیت کیلئے جو کام کرتے ہیں اس سے انہیں تسکین قلب ملتا ہے ۔ بظاہر تو یہ تسکین حاصل کرتے لیکن تسکین قلب حاصل نہیں کرپاتے کیونکہ تسکین قلب صرف اسی صورت حاصل ہوتا ہے جب اس کام میں اللہ کی رضا اور اللہ کیلئے وہ کام کیا جارہا ہو کیونکہ اللہ تعالی کی تعلیم عین انسانیت کی بھلائی اور فلاح کیلئے ہے۔تسکین قلب کا تعلق ایمان سے جوڑگیا ہے۔جو چیز اللہ تبارک وتعالی کی رضا سے حاصل کی جائے یا اللہ تعالی کی طرف سے عنایت کی جائے وہ ہی اطمینان قلب اور تسکین قلب کا باعث بنتی ہے۔

قرآن پاک میں سورۃ توبہ میں بھی تسکین قلب کا ذکر دو مرتبہ آیا ہے۔ آیت نمبر 26 ترجمہ: ” پھر اللہ نے اپنی طرف سے اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر تسکین نازل فرمائی اور وہ فوجیں اتاریں کہ جن
ہیں تم نے نہیں دیکھا اور کافروں کو عذاب دیا، اور کافروں کو یہی سزا ہے۔”

تسکین کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے دل میں اللہ تعالی کی طرف سے وہ نور داخل کردیا جاتا ہے جو اس کی روح ، احساسات اور جذبات کو سکون فراہم کرتا ہے۔ یہ سکون و تسکین انسان کو دنیا ڈروخوف سے نجات دیتا ہے۔

اسی طرح سے سورۃ توبہ کی آیت نمبر 40 میں اللہ تبارک و تعالی نے ارشاد فرمایا۔ جس میں حضور ﷺ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کا بیان کیا گیا ہے ۔ ترجمہ:”اگر تم رسول کی مدد نہ کرو گے تو اس کی اللہ نے مدد کی ہے جس وقت اسے کافروں نے نکالا تھا کہ وہ دو میں سے دوسرا تھا جب وہ دونوں غار میں تھے جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا تو غم نہ کھا بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے، پھر اللہ نے اپنی طرف سے اس پر تسکین اتاری اور اس کی مدد کو وہ فوجیں بھیجیں جنہیں تم نے نہیں دیکھا اور کافروں کی بات کو پست کر دیا، اور بات تو اللہ ہی کی بلند ہے، اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔” اس ہجرت میں حضور ﷺ کے ہمراہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ تھے اور حضور ﷺ اپنے ساتھی کو تسکین اور اطمینان دے رہے تھے کہ غم نہ کرو اللہ تعالی ہمارے ساتھ ہے ۔پھر وقت گزرنے کے بعد اللہ تعالی نے حضورﷺ کے ذریعے انسانیت کو تسکین قلب کیلئے اللہ کی ہدایت و احکامات پر عمل کرنے کا حکم دیا۔

اس کے بعد اللہ تعالی نے قرآن پاک میں سورہ الفتح کی آیت نمبر 26 میں ارشاد فرمایا ہے۔ ترجمہ:”جب کہ کافروں نے اپنے دل میں سخت جوش پیدا کیا تھا جہالت کا جوش تھا پھر اللہ نے بھی اپنی تسکین اپنے رسول اور ایمان والوں پر نازل کردی اور ان کو پرہیزگاری کی بات پر قائم رکھا اور وہ اسی کے لائق اور قابل بھی تھے، اور اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔” یعنی کے ایک بار پھر یہ بات ثابت ہوئی کہ تسکین قلب صرف اللہ کی ذات سے وابستگی کی صورت میں ہے۔ انسان جب نفس کے سکون کیلئے اللہ تعالی کے احکاما ت سے دور ہٹ جاتا ہے تو اسے تسکین قلب میسر نہیں آتا ہے۔اس آیت کے مفہوم سے ثابت ہوتا ہے کہ غیر مسلم /کافر ہمیشہ جاہلیت کی ضد کرتا ہے اور مومن مسلمان پرہیزگاری پر قائم رہتا ہے۔ اللہ تعالی جن کو اپنے نور سے نوازتا ہے انہیں پرہیزگاری پر قائم رکھتا ہے۔

دیگر مذاہب میں اگر تسکین قلب کا جائزہ لیا جائے تو سب سے پہلے یہودیت کا مطالعہ کیا جائے تو تابوت سکینہ ایک اہم مقام رکھتا ہے اور آج بھی اسرائیل میں یہودی تابوت سکینہ کی تلاش میں مصروف عمل ہیں۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ اگر وہ اس کو حاصل کرلیں گے تو انہیں دلی تسکین حاصل ہوجائے گی اور ان کے آگے کا سفر آسان ہوجائے گا۔

عیسائیت میں بھی تسکین قلب کے حوالے سے کافی مواد موجود ہے۔ عیسائیت میں روح کی تسکین کیلئے مختلف مراحل کے بارے میں بتایا گیا ہے اور انسان کی کردار سازی پر بات کی گئی ہے۔عیسائیت مذہب میں تسکین قلب کیلئے صبر اور حکمت کی بات کی گئی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تمام مذاہب اللہ تعالی کے عطا کردہ ہیں اور ہر مذہب میں اللہ کی وحدانیت کی بات کی گئی ہے لیکن یہودی اور عیسائیوں نے اللہ کی ہدایات سے انکاری کرتے ہوئے اپنے اپنے دین میں تبدیلیاں کیں جس کے باعث وہ آج تک بھٹک رہے ہیں۔

صوفی ازم میں اگر تسکین قلب کی بات کی جائے تو صوفی ازم میں تسکین قلب سے مراد اطمینان قلب اور اطمینان قلب سے مراد نفس مطمئنہ ہے۔

نفس کی سات اقسام ہیں۔ نفس امارہ، نفس لوامہ، نفس ملھمہ، نفس مطمئنہ، نفس راضیہ، نفس مرضیہ، نفس کاملہ

نفس امارہ پہلا نفس ہے یہ سب سے زیادہ گناہوں کی طرف مائل کرنے والا اور دنیاوی رغبتوں کی جانب کھینچ لے جانے والا ہے۔ برائی کے غلبہ کو کم کر کے جب انسان نفس امارہ کے دائرہ سے نکل آتا ہے تو نفس لوامہ کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے۔ اس مقام پر دل میں نور پیدا ہو جاتا ہے۔ جو باطنی طور پر ہدایت کا باعث بنتا ہے جب نفس لوامہ کا حامل انسان کسی گناہ یا زیادتی کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے تو اس کا نفس اسے فوری طور پر سخت ملامت کرنے لگتا ہے اسی وجہ سے اسے لوامہ یعنی سخت ملامت کرنے والا کہتے ہیں۔ تیسرا نفس نفس ملہمہ ہے۔ جب بندہ ملہمہ کے مقام پر فائز ہوتا ہے تو اس کے داخلی نور کے فیض سے دل اور طبعیت میں نیکی اور تقوی کی رغبت پیدا ہو جاتی ہے چوتھا نفس مطمئنہ ہے جو بری خصلتوں سے بالکل پاک اور صاف ہو جاتا ہے اور حالت سکون و اطمینان میں آجاتا ہے۔ یہ نفس مطمئنہ اولیاء اللہ کا نفس ہے یہی ولایت صغریٰ کا مقام ہے۔ اس کے بعد نفس راضیہ، مرضیہ اور کاملہ یہ سب ہی نفس مطمئنہ کی اعلیٰ حالتیں اور صفتیں ہیں ۔ اس مقام پر بندہ ہر حال میں اپنے رب سے راضی رہتا ہے ۔

اس حوالے مولانا روم کا کہنا ہے کہ جو زبانی مومن ہیں وہ کبھی اس حقیقت کو نہیں سمجھ سکتے ہیں ۔ نور ایمان اور روح کی غذا ہے اور جب روح اور جسم کا اتحاد ہوجاتا ہے تو روح جسم کی غذا بن جاتی ہے اور یہ ہی صوفی ازم کی معراج ہے۔

YouTube player