نوواک جوکووچ کا آسڑیلیا میں داخلہ کیوں روکا گیا؟

عالمی نمبر ایک ٹینس کھلاڑی نوواک جوکووچ کو آسٹریلیا نےکورونا وائرس کے سخت قوانین پر پورا نہ اترنے پر ویز ا منسوخ کرکے انہیں ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد نوواک جوکووچ نے ویزے کی منسوخی کے خلاف آسٹریلوی عدالت سے رجوع کیا ہے۔

جوکووچ کے وکلاء آسٹریلوی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف عدالتی کارروائی میں مصروف ہیں اور اس امید کے ساتھ کہ وہ ٹینس اسٹار کی ملک بدری کو روک سکیں۔

نوواک جوکووچ آسٹریلین اوپن میں شرکت کیلئے بدھ کو میلبرن پہنچے تو ائیر پورٹ حکام نے سربین ٹینس اسٹار کو ویکسین سے استثنیٰ اور غلط ویزے کی بنیاد پر داخلے سے روک دیا۔

سربیا سے تعلق رکھنے والے نوواک جوکوچ آسٹریلین اوپن ٹینس ٹائٹل کا دفاع کرنے کیلئے دبئی سے پرواز کرنے کے بعد میلبورن پہنچے تو ایئرپورٹ پر وفاقی سرحدی حکام نے کہا کہ مسٹر جوکووچ نے داخلے کیلئے ملک کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا کیونکہ انہوں‌نے ویکسین نہیں لگائی گئی تھی جس کے باعث ان کا ویزا منسوخ کر دیا گیا تھا۔

فی الحال 34 سالہ ٹینس اسٹار جوکووچ کو سرکاری حراستی ہوٹل میں رکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ آسٹریلین اوپن ٹینس 17 جنوری سے شروع ہورہا ہے.

دوسری جانب سوئٹزر لینڈ سے تعلق رکھنے والے ریکارڈ یافتہ ٹینس اسٹار راجر فیڈرر نے سربین ٹینس کھلاڑی نوواک جوکووچ کو آسٹریلیا میں داخل ہونے سے روکنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ نوواک جوکووچ کے معاملے پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے نامور ٹینس اسٹار کا کہنا تھا کہ اگر جوکووچ چاہتے تو بغیر کسی پریشانی کے کھیل سکتے ہیں۔