جنگوں اور قدرتی آفات کے باوجود، بٹ کوائن اب بھی ڈالر کے لیے خطرہ ہے۔

یوکرین اور روس کی جنگ نے بٹ کوائن اور ڈالر کو مد مقابل کھڑا کردیا ہے۔ جنگ کی وجہ سے کرپٹو انڈسٹری میں جہاں کچھ لوگ ڈیجیٹل اثاثوں کی افادیت کو سمجھ رہے ہیں وہیں امریکی ڈالر کو بھی ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ موجودہ جنگی حالات سے فوائد اٹھاتے ہوئے ڈالر اور بٹ کوائن اپنی اونچی سطح پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

روس اور یوکرین کے جنگی حالات میں ڈالر اور کرپٹو کرنسی سے متعلق کچھ لوگوں کے خیالات قدر مختلف ہیں۔Chamath Palihapitia ایک وینچر کیپیٹلسٹ ہیں اور سرمایہ کار کمپنی سوشل کیپیٹل کے بانی بھی ہیں۔وہ ان معاملات پر ایک غیر معمولی نقطہ نظر رکھتے ہیں۔انہوں نے اس توقع کی تردید کی کہ روس کا یوکرین پر امریکی ڈالر کی قیمت پر کرپٹو اثاثوں کے لیے غیر قانونی حملہ مثبت ثابت ہوگا۔ان کے خیال میں بٹ کوائن اور ڈالر کا یکساں فائدہ ہوتا ہے۔Palihapitiya کے مطابق یہ پہلے ہی واضح ہے روسی حملے کی وجہ سے صرف “کرپٹو بوم” ہی نہیں آیا بلک یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ بٹ کوائن اور ڈالر دونوں ہی اس وقت جیت رہے ہیں۔اور دونوں میں دلچسپ متوازن کو دیکھا جاسکتا ہے۔

یہ بات بھی مشاہدہ میں سامنے آئی کہ Bitcoin ایک “ادارتی محفوظ پناہ گاہ” کے طور پر نمایاں ہوا ہے۔ اور یہ بھی اہم ہے کہ کوائن پرائمس خود کو مارکیٹ میں موجود دیگر تمام کرپٹو کرنسیوں سے ممتاز کرنے میں کامیاب ہو جائےگا۔

تاہم امریکی ڈالر بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے بلکہ امریکی ڈالر بھی خود کو مضبوط بنا رہا ہے اور خود کو دیگر کرنسیوں سے الگ کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہا ہے۔ وہ ایک ممکنہ کنکشن بھی بنا رہا ہے ۔

بٹ کوائن سے متعلق کہی مثبت نقطہ نظر پایا جاتا ہے وہیں منفی خیالات بھی پائے جاتے ہیں ۔جن میں بلومبرگ کے تجزیہ کار مائیک میک گلون بٹ کوائن کورس سے کافی پر امید ہیں اقتصادیات کے پروفیسر کے مطابق بٹ کوائن جلد ہی غائب ہو سکتا ہے۔

اگر بٹ کوائن کی قیمت گرتی ہے تو یہ امید کی جا سکتی ہے کہ دیگر کرپٹو اثاثوں کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اسی طرح اگر ڈالر بھی نیچے آتا ہے تو غیر امریکی اثاثے بھی متاثر ہوں گے۔
بٹ کوائن عالمی آفات کے حل کے طور پربھی دیکھا جارہا ہے۔
بٹ کوائن کے شوقین اس حقیقت کی خاص طور پر تعریف کریں گے کہ نام نہاد بٹ کوائن کا غلبہ جو کہ مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں جنوری کے وسط سے 39 سے بڑھ کر 43 فیصد ہو گیا ہے۔

مائیکرو اسٹریٹجی کے باس مائیکل سائلر صرف بٹ کوائن کے ذریعے متعدد سنگین عالمی مسائل کا حل دیکھتے ہیں جن میں مہنگائی، جنگ اور قحط خاص طور پر قابل بیان ہیں ۔