جرمنی : اومیکرون کا خطرہ، سیروتفریح کیلئے سختیاں، قرنطینہ میں نرمی

جرمنی کی حکومت کورونا وائرس کی نئی لہر اور کورونا کی نئی قسم اومیکرون کے پھیلاؤ کے خطرے کو کم کرنے کیلئے ریسٹورانٹس اور بارز کیلئے اضافی پابندیاں لاتے ہوئے اپنے قرنطینہ قوانین میں نرمی کررہی ہے۔

اس بات کا فیصلہ وفاقی اور 16 ریاستی رہنماؤں کے اجلاس میں کیا گیا جو جمعہ کو منعقد ہوا۔ جرمن چانسلر اولاف شولز اور ملک کی 16 ریاستوں کے وزرائے اعظم نے فیصلہ کیا کہ کورونا ویکسین کی دوسری اور تیسری ڈوز لگانے والے افراد یا کورونا سے حال ہی میں صحتیاب ہونے والے اگر وائرس میں مبتلا کسی کے ساتھ رابطے میں آتے ہیں تو انہیں قرنطینہ سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا یا ان کا دورانیہ کم رکھا جائے گا۔

اجلاس میں کہا گیا کہ قرنطینہ کی مدت کو بھی کم کر کے 10 دن کر دیا جائے اور اگر متاثرہ شخص کا ٹیسٹ منفی آتا ہے تو سات دن میں قرنطینہ سے باہر نکلنے کا آپشن ہو گا۔ فی الحال، ملک میں قرنطینہ کا دورانیہ 14 دن ہے۔

چانسلر اولاف شولز اور ریاستی رہنماؤں نے بارز اور ریستوران میں داخلے کی ضروریات کو سخت کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ منصوبوں کے تحت، لوگوں کو باہر کھانے سے پہلے ٹیسٹ کروانے کی ضرورت ہوگی، جب تک کہ انہیں کورونا وائرس کے خلاف اپنا بوسٹر شاٹ نہ ملا ہو۔

اجلاس کے بعد بات کرتے ہوئے جرمن چانسلر اولاف شولز نے کہا کہ کورونا کی نئی قسم اومیکرون کے باعث کیسز کی تعداد بڑھنے کا امکان ہے اور یہ واضح ہے کہ اومیکرون ہمیں طویل عرصے تک مصروف رکھے گا اور اسی وجہ سے ہم اپنے صحت کے نظام کو مکمل طور پر واضح نہیں کر سکتے ہیں۔

جرمن چانسلر نے ایک بار پھر لوگوں سے کورونا کی ویکسین اور بوسٹر شاٹس لینے کی اپیل کی۔