غذائی تحفظ کیلئے عالمی سطح پر اجتماعی اقدامات ناگزیر

غذائی تحفظ دور حاضر کی اہم ضرورت ہے،انڈونشین قونصل جنرل ڈاکٹر جون

جامعہ کراچی کے شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام عالمی یوم خوراک کی مناسبت سے شعبہ ہذا کے یونائیٹڈ کنگ ہال میں ایک سیمینار منعقد ہوا جس کا موضوع ”بہترپیدوار،بہترغذا،بہترماحول اور بہترزندگی“ تھا.

سیمینار کے مہمان خصوصی کراچی میں تعینات انڈونیشیا کے قونصل جنرل تھے. سیمینار کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انڈونیشیا کے کراچی میں تعینات قونصل جنرل ڈاکٹرجون کنکورو نے کہا کہ غذائی تحفظ دور حاضر کی اہم ضرورت ہے جس کے لئے اقدامات اٹھانا تمام اقوام کی ذمہ داری ہے، غربت اور بھوک کے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ غذا میں نیوٹریشن والے کھانوں کی کلیدی حیثیت ہے جس سے انسانی صحت کو لاحق خطرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔ غذائی تحفظ کے لئے پالیسی سازی اور سیاسی کمٹمنٹ لازم ہے، یہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ کھانوں کو ایک مناسب قیمت پر فراہم کیا جائے تاکہ غربت پر بھی قابو پایا جاسکے۔ ہمیں مشترکہ طورپر غذائی قلت کے خاتمے کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

قونصل جنرل نے کہا کہ ورلڈ فوڈ ڈے ایک ایسا دن ہے جو غذائی تحفظ کے مسئلہ پر ایک وسیع تر قومی اور بین القوامی لائحہ عمل بنانے کی ترغیب دیتا ہے۔ بھوک صرف غذائی کمی کو نہیں کہتے بلکہ بقدرضرورت معیاری غذاتک رسائی نہ ہونا بھی اس میں داخل ہے۔میں اس بہترین پروگرام کے انعقاد پرصدر شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر شاہینہ ناز کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

اس موقع پر شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر خالد محمو دعراقی، 25 سے زائد مختلف صنعتوں کے مالکان اور سی ای اوز،غذائی امورکے ماہرین اور پروفیسر ڈاکٹرشاہینہ ناز بھی موجود تھیں۔

اس موقع پر پر فوڈ ایکسپو کا بھی انعقاد کیاگیاتھاجس میں مختلف کمپنیوں کی جانب سے اسٹالز بھی لگائے گئے تھے اور طلبہ کے مابین پوسٹرکمپٹیشن اورجامعہ کراچی سمیت سندھ کی مختلف جامعات کے طلباوطالبات کی جانب سے عضرحاضر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ان کی تیارکردہ مصنوعات بھی نمائش کے لئے پیش کئی گئیں جس کو حاضرین نے بیحدسراہا۔

پاکستان میں غذائی قلت کی ایک بڑی وجہ بڑھتی ہوئی آبادی ہے، ڈاکٹر خالد عراقی

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر خوراک کے بحران سے ترقی پذیرممالک زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ہم خوراک میں کسی حد تک خود کفیل ضرور ہیں،لیکن ہمارے یہاں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ نہیں کیا جارہاہے۔ پاکستان میں غذائی قلت کی ایک بڑی وجہ بڑھتی ہوئی آبادی ہے،جس کا ادراک اور حل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ہمارے پاس دنیا کا بہترین کینال سسٹم موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت وقت کے ساتھ ساتھ ہم سب اور بالخصوص اکیڈیمیاء،کارپوریٹ سیکٹر اور فوڈسیکٹر کا اخلاقی فرض ہے کہ غذائی قلت کو حل کرنے میں اپناقومی کردار ادکریں۔حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق غذاکا استعمال صحتمند زندگی کے لئے ناگزیر ہے۔،ہمیں زراعت کے شعبہ میں وسیع تر اقدامات اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے جو ہماری برآمدات میں اضافے کا سبب بنے گی۔

2050 ء تک پوری دنیا کی آبادی دس ارب اور غذائی قلت کے شکار افراد کی تعداد دوارب تک پہنچ جائیگی۔ڈاکٹر محمد غفران

شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جامعہ کراچی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سید محمد غفران سعید نے کہا کہ اس وقت دنیا بھر کی آبادی تقریباً چھ ارب نفوس پرمشتمل ہے جن میں سے 700 ملین افراد بھوک اور غذائی قلت کا شکارہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق 2050 ء تک پوری دنیا کی آبادی دس ارب تک جبکہ بھوک اور غذائی قلت کے شکار افراد کی تعداد دارب تک پہنچ جائے گی۔دنیا بھر میں 14 فیصد غذاصرف غلط کٹائی،درست طریقے سے ذخیرہ نہ کرنے اور آمد ورفت کے مناسب ذرائع استعمال نہ کرنے کی وجہ سے خراب ہوجاتی ہے جبکہ 16 فیصدغذاخریدوفروخت،پراسیسنگ کے مراحل،ریستوران،ہوٹلزاور گھروں میں ضائع ہوجاتی ہے اور 30 فیصدحاصل شدہ غذا بناء کسی فائدے کے کچرے کی نذرہوجاتی ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔

صدر کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی)کے سلمان اسلم نے کہا کہ 15 لاکھ سے زائد افراد ہماری ایسوسی ایشن سے منسلک انڈسٹریز سے وابستہ ہیں۔کچھ مصنوعات کی پاکستان میں پیدانے ہونے کے باوجود بڑے شہروں تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے یہ مصنوعات بیرون ممالک سے درآمد کی جاتی ہیں لیکن اب اس کی رسائی کو بڑے شہروں تک یقینی بنایاجارہاہے جس سے درآمد کی مد میں خرچ ہونے والے زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔

آل پاکستان ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کے صدر شوکت علی سلیمان نے کہا کہ ریسٹورنٹ انڈسٹری میں ہم غذائی ضیاع کی آگاہی سے متعلق شعور بیدار کرنے کے لئے مسلسل کوشاں ہیں اور بچ جانے والے غذا کو ہم مختلف رفاہی اداروں تک پہنچاتے ہیں تاکہ غذائی ضیاع کو کم سے کم کیاجاسکے۔

شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جامعہ کراچی کی صدر پروفیسر ڈاکٹر شاہینہ ناز نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے عالمی یوم خوراک کی مناسبت سے منعقدہ سیمینار کے اغراض ومقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ اس طرح کے سیمینار کا تواترسے انعقاد وقت کی اہم ضرورت بن چکاہے۔

سیمینار سے معروف فوڈ کنسلٹنٹ سعدعظیم،صدرورلڈ پولٹری ایسوسی ایشن وقار عالم،سی ای او کورنش فوڈز وسیم شمسی،صدر کراچی ایسوسی ایشن آف سوئٹس اینڈ نمکوشیخ تحسین،ہیڈ آف ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ یونی لیور پاکستان یوسف عثمان،جنرل مینجر پاپولر گروپ ڈاکٹر نعیم اللہ نعیم،جنرل مینجر اپ فیلڈ فریحہ سبحانی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔