پاکستان میں اردو کا عروج وزوال

syed nizam ud din chishti
تحریر: سیدنظام الدین چشتی

کسی بھی ملک کی قومی زبان اس کی پہچان ہوتی ہے جو ملک کی ترقی اور پہچان کیلئے بہت ضروری ہوتی ہے۔ ہر ملک کی قومی زبان اُس ملک کے معاشرتی تہذیبی اور ثقافتی اقتدار کو بیان کرتی ہے اور یہ قومی زبان ہی ہے جو ملک کے تمام لوگوں کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 7 ہزار سے زائد زبانیں بولیں جاتی ہیں اور ہر ایک زبان دنیا کو ایک مختلف ، منفرد اور پرکشش جگہ بناتی ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی سرفہرست زبانوں میں میڈیرین (چینی)، انگریزی، ہسپانوی (اسپین میں بولی جانے والی زبان) اور ہندی زبان شامل ہے جبکہ وکی پیڈیا کے مطابق اردو کا فہرست میں نمبر 20واں ہے۔

اردو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی زبان ہے ۔ اس زبان کو لشکری زبان بھی بولا جاتا ہے۔ تاریخی کتابوں میں درج ہے کہ مسلمان جب ہجرت کر کے برصغیر آئے تو اُن کی زبان عربی اور فارسی تھی، لہٰذا وہ بات چیت میں زیادہ تر اپنی زبان ہی کا استعمال کرتے تھے کیونکہ وہ پوری طرح مقامی زبان سے واقف نہیں تھے۔ اس لئے اظہار مقصد کیلئے مختلف زبانوں کے الفاظ استعمال کرتے اور اسی طرح اردو زبان کا آغاز ہوا۔ اردو زبان درحقیقت مختلف زبانوں کا مجموعہ ہے اور یہی وجہ بھی ہے کہ اس میں اکثر اوقات عربی اور فارسی کے لفظ بھی پائے جاتے ہیں۔ یوں تو پاکستان کے مختلف صوبوں میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔ جیسے کہ پنجابی، سرائیکی، سندھی، پشتو لیکن پاکستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان واحد اردو ہے۔

ہر ملک میں اُس کی قومی زبان کو سرکاری اور ریاستی اہمیت حاصل ہوتی ہے اور تمام دفاتر، عدالتوں، اسکولوں اور اسمبلیوں میں قومی زبان کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ ملک میں قومی زبان کو فروغ ملے اور ہر شخص قومی زبان سے واقف ہو جائے،لیکن پاکستان میں اُلٹی ہی گنگا بہہ رہی ہے۔

1837 میں اردو کو پہلی مرتبہ فارسی کی جگہ انگریزی کے ساتھ دفتری زبان کا درجہ دیا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد بانی قوم قائداعظم محمد علی جناح نے اردو کو قومی زبان کا درجہ دیاجبکہ 1973 کے آئین کے تحت شق 251 کے مطابق اردو کو دفتر زبان بنانے کا اعلان ہوا لیکن عمل نہیں ہوسکا۔ پھر سپریم کورٹ آف پاکستان نے 8 ستمبر 2015 کو سرکاری دفتر میں اردو کو بطور سرکاری زبان کے نافذ کرنے کے احکامات جاری کیے لیکن یہ احکامات صرف کاغذ کی حد تک رہے۔ جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں انہوں نے ہمیشہ اپنی زبان میں ہی ترقی کی ہے۔ اگر ہم بات کریں امریکا کی تو آج انہوں نے اپنی زبان کے ذریعے دُنیا بھر میں قبضہ کیا ہوا ہے اور آج کل کے زمانے میں انگریزی زبان سیکھنا اور بولنا ہر شخص کی ضرورت نہیں،بلکہ مجبوری بن گئی ہے۔

اُردو کے زوال کی وجہ صرف اور صرف ہمارے حکمران نہیں،بلکہ پاکستان کا ہر ایک شخص ہے۔ہماری قوم کی بدقسمتی یہ ہے کہ بہت عرصے سے ہماری قومی زبان اردو زوال کا شکار ہے اور اب ہم انگریزی زبان کو اُردو پر فوقیت دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں جو شخص انگریزی بول سکتا ہے صرف وہ ہی پڑھا لکھا سمجھا جاتا ہے اور اب تو عالم یہ ہے کہ آج کل کی اعلی طبقے کی نوجوان نسل اُردو بولنے کو اپنی توہین سمجھتی ہے جبکہ نوجوانوں کی اکثریت تو اردو لکھنے ہی سے قاصر ہے۔

آج ہر والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اُس کے بچے انگریزی میڈیم اسکول سے ہی تعلیم حاصل کریں فر فر انگریزی بولیں اور اُنہیں اُردو آئے نہ آئے، لیکن انگریزی ضرور بولنی آتی ہو، کیونکہ ہمارے ہاں جو شخص ٹوٹی پھوٹی اُردو بولتا ہے اُس کا تو نا ہی کوئی شخص مذاق اڑاتا ہے اور نا ہی اُسے کوئی شخص جاہل سمجھتا ہے، لیکن اس کے برعکس اگر کوئی شخص کبھی انگریزی کا کوئی جملہ غلط بول جائے تو محفل میں موجود تمام لوگ ہی اُسے جاہل قرار دے دیتے ہیں۔ان ہی وجوہات کی بنا پر روز بروز اُردو زبان زوال کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔ رہی سہی کسر بین الاقوامی ثقافتی یلغار نے پوری کر دی ہے۔ایک وقت تھا کہ جب پاکستانی ڈرامے دیکھ کر اور خبریں سن کر لوگ اپنا اردو زبان کا تلفظ درست کیا کرتے تھے، لیکن اب حال یہ ہے کہ یہی ذریعہ ابلاغ بڑے پیمانے پر ہماری قومی زبان کے بگاڑ کا باعث بن رہا ہے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ اعلی عدلیہ کے احکامات کے اردو زبان کے فروغ  اور سرکاری دفاتر میں مکمل نفاذ کیلئے احکامات پر ریاستی سطح پر کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیےگئے۔ اعلی سطح پر اردو زبان کے بجائے انگریزی زبان میں گفتگو کو فروغ دیا جاتا رہا اور ہے۔ پاکستان کی موجود تاریخ میں تمام سیاستدان ماسوائے وزیراعظم عمران خان ملک میں قومی سطح پر سرکاری و غیر سرکاری تقاریب میں انگریزی زبان میں خطاب کو ترجیح دیتےہیں جس سے ان کی بھی ذہنی غلامی کی عکاسی ہوتی ہے۔

اردو زبان کی ترقی کیلئے ایک ادنی سی کوشش ہرسال کراچی میں پاکستان آرٹس کونسل کے زیر اہتمام کی جاتی ہے جسے عالمی اردو کانفرنس کا نام دیا گیا ہے۔ رواں سال عالمی اردو کانفرنس کا 14واں میلہ چار روز کیلئے کراچی میں پاکستان آرٹس کونسل میں سجایا گیا جس کا افتتاح سندھ کے وزیراعلی سید مراد علی شاہ نے کیا ۔ کانفرنس میں ملکی اور بین الاقوامی مصنف، شاعر، ادیب، افسانہ نگار اور دیگر ادبی شخصیات نے شرکت کی اور اردو زبان کے عروج و زوال کے ساتھ اردو کی ترقی کیلئے کئی تجاویز پیش کیں۔

YouTube player

عالمی اردو کانفرنس کی خاص بات یہ بھی رہی کہ کانفرنس میں اردو کے ساتھ دیگر علاقائی زبانوں کی ترقی کیلئے بھی کوششوں پر روشنی ڈالی گئی۔ کانفرنس میں اردو ادب، ثقافت، تعلیم ، صحافت ، ڈرامہ نگاری سمیت مختلف سیشنز منعقد ہوئے۔ کتابوں کی تقریب رونمائی ہوئی اور شعراء نے اپنے کلام پیش کیے جواردو کی ترقی اور فروغ کیلئے ایک اچھی کوشش اور اقدام ہے۔

ادھر ملکی سطح پر معاشرہ کی بہتری کیلئے علاقائی زبانوں کے ساتھ قومی زبان کو فروغ دینے کی بھی ضرورت ہے تاکہ ہمارے معاشرے کی مختلف رنگوں سے بھری زبانوں بشمول قومی زبان کی مدد سے معاشرے میں ادب و اخلاقیات کو فروغ دے کر معاشرے سے فرسودہ اور مغربی سوچ کا خاتمہ کیا جاسکے کیونکہ دنیا میں وہی قومیں ترقی کی منازل طے کرتی ہیں جو اپنی زبان کو اہمیت دیتی ہیں ۔

اس وقت اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنی قومی زبان کو فروغ دیں تاکہ یہ زبان زندہ رہ سکے۔ انگریزی زبان سیکھنے میں کوئی ہرج نہیں،لیکن ہمیں اپنی قومی زبان بولنے اور سیکھنے میں بھی عار محسوس نہیں کرنی چاہئے،کیونکہ درحقیقت یہ زبان ہی ہر پاکستانی کا اصل اثاثہ ہے۔ میری استدعا صرف اتنی ہے کہ اردو زبان کی ترویج اور فروغ کیلئے کام کیا جائے یا نہیں، لیکن کم از کم اسے اس کی اصل حالت میں برقرار تو رہنے دیا جائے۔ انگریزی اور ہندی کے پیوند لگا لگا کر اس کی انفرادیت کو خراب نہ کیا جائے۔ ہماری زبان دنیا کی چند بڑ ی زبانوں میں سے ایک ہے،اس کی ترقی اور ترویج کے لئے مزید اقدامات ہونے چاہیے۔

٭داغ دہلوی نے کیا خوب کہا ہے۔۔۔٭
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے


پوڈکاسٹ

YouTube player