پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کا وقت


تجزیہ:.سید نظام الدین چشتی

جیسے جیسے افغان طالبان افغانستان میں امریکی و نیٹو کی تشکیل کردہ حکومتی مشینری کو شکست دے کر افغانستان کے چھوٹے بڑے شہروں اور علاقوں کو فتح کر رہے ہیں یہاں تک کے طالبان افغانستان کے اہم شہر قندوز تک پہنچ چکے ہیں اور اتحادی و افغان فورسز کے اہم مرکز مزار شریف پر بھی طالبان کا قبضہ ہونے کے قریب ہیں۔ ان اطلاعات کے بعد پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایک ہلچل سے مچی ہوئی ہے کہ طالبان اگر اسی طریقے سے افغانستان پر اپنا کنٹرول مضبوط کرتے گئے تو وہ جلد ہی کابل تک پہنچ جائینگے اور افغانستان پر مکمل کنٹرول کرلیں گے۔ اطلاعات ہیں کہ افغان طالبان کابل سے صرف 100 یا 150 کلومیٹر دور ہیں۔ افغانستان میں تیزی سے تبدیل ہوتے حالات نے مغربی طاقتوں بالخصوص امریکا کو ایک بار پھر پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔ یہاں تک کہ جرمنی کی وزیر دفاع اینگریٹ کرامپ کارین باوا نے اس تمام تر صورتحال کا ذمہ دار سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر کو ٹہرایا ہے اور کہا ہے کہ سابق امریکی صدر نے اپنے دور حکومت میں ایک تدویراتی منصوبہ بندی یعنی اسٹریٹجک پلان تشکیل نہیں دیا اور اپنے طور پر ذاتی انا اور تنہا فیصلے کرتے ہوئے افغانستان کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا جس کے باعث مغربی طاقتیں جو ایک اتحاد اور منصوبہ بندی کے تحت افغانستان میں موجود تھیں اب بغیر کسی منصوبہ بندی کے افغانستان سے نکل چکی ہیں۔

ادھر جرمنی نے بھی ملک بدر کیے جانے کا فیصلہ کیے جانے والے افغانیوں کو ان کے ملک واپس بھیجنے کے عمل کو سیکیورٹی کے اسباب کے پیشِ نظر کچھ مدت کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔ دفترِ داخلہ کے ترجمان اسٹیو آلٹر نے اس حوالے سے اپنی ٹویٹ میں لکھاہے کہ وزیر داخلہ نے افغانستان میں سلامتی کے موجودہ حالات کےتناظر میں افغان مہاجرین کو ملک بدر کرنے کے فیصلے کو التوا میں ڈال دیا ہے۔ واضح رہے کہ جرمنی کچھ مدت سے پناہ کی درخواستیں مسترد ہونے والے افغان پناہ گزینوں کو ان کے ملک واپس بھیج رہا تھا۔

دوسری جانب پاکستان کے ریاستی ادارے اور سیاسی قوتیں اس وقت انتظار اور صورتحال کی نگرانی کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال کے نتیجے کی منتظر ہیں۔ پاکستان کو ایک امید ہے کہ اگر افغانستان میں حالات زیادہ سنگین نہیں ہوئے تو 40 برس سے پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین افغانستان میں واپسی کریں گے۔ افغان مہاجرین کی پاکستان میں موجودگی اور افغانستان کے مسئلے کے فوجی حل کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان عمران خان کئی بار اظہار خیال کرچکے ہیں کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں بلکہ وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ افغانستان کے مسئلے کو سیاسی طور پر حل کرنے پر زور دیا ہے اور یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی 80 یا 90 کی دہائی پالیسی اب ختم ہوچکی ہے۔ پاکستان ایک پرامن افغانستان کا خواہاں ہے کیونکہ افغانستان کی صورتحال کا پاکستان پر پڑوسی ہونے کے ناطے ایک گہرا اثر پڑتا ہے جبکہ وزیر خارجہ پاکستان شاہ محمود قریشی بھی پاکستان اور وزیراعظم عمران خان کی پالیسی کے حوالے سے تفصیلی بیان دے چکے ہیں کہ پاکستان افغانستان میں موجود کسی بھی سیاسی یا عسکری گروہ کو فوقیت نہیں دیتا بلکہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغان عوام کریںگے اور پاکستان میں موجود ایک اندازے کے مطابق 14 لاکھ افغان مہاجرین کی واپسی باعزت طریقہ سے ممکن ہوسکے۔

افغانستان میں افغان طالبان کی پیش قدمی اور ممکنہ سول وار پاکستان کے کچھ حلقوں میں تشویش کی نگاہ سے بھی دیکھی جارہی ہے جس کے اثرات کچھ اس حد تک ہوسکتے ہیں کہ پاکستان میں ایک بار پھر افغان مہاجرین کی بڑی تعداد کی آمد ہو۔ جو پاکستان کی معیشت اور امن وامان کے حوالے سے خطرناک ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں افغان مہاجرین کی موجودگی سیاسی و جغرافیائی لحاظ سے بھی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ افغان مہاجرین کی موجودگی عالمی سطح پر پاکستان کے تاثر پر منفی ردعمل کا باعث بنتی ہے۔ جس کی مثال حال ہی میں پاکستان میں افغان سفیر کی بیٹی کے ساتھ پیش آنے والا واقع ہے جسے عالمی میڈیا خاص کر پڑوسی ملک بھارت نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی اور بہتان تراشی کیلئے استعمال کیا حالانکہ حکومت پاکستان نے افغان سفیر کی بیٹی کی باخیریت بازیابی اور افغان سفارتخانے سے ہرممکن تعاون کیا لیکن افغانستان اور افغان سفارت خانے کی جانب سے پاکستان کے عمل کا مثبت جواب نہیں دیا گیا۔

اس کے علاوہ عالمی میڈیا میں پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو افغان طالبان کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور بارہا یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ افغان طالبان پاکستان سے افغانستان میں داخل ہوتے ہیں جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ افغان مہاجرین کی واپسی کو افغان طالبان سے جوڑنا سراسر ناانصافی ہے۔ جبکہ وزیراعظم عمران خان افغان صدر اشرف غنی سے اس الزام کا ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کرچکے ہیں جس کا بھی افغانستان کی جانب سے فی الحال کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

ایک صحافی طاہر خان نے جرمن اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کو اس بات خدشتہ ہے کہ جو تشدد اس وقت افغانستان میں جاری ہے اس کے اثرات پڑوسی ملک پر بھی پڑسکتے ہیں۔ جبکہ عالمی برادری پاکستان کو اس نظر سے دیکھ رہی ہے کہ پاکستان طالبان کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ باوجود اس کے پاکستان کئی بار واضح کرچکا ہے کہ پاکستان افغانستان میں صرف امن کا ضامن ہے۔ پاکستان کسی گروہ یا جماعت سے تعلق نہیں رکھتا نہ اثر رکھتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں مقیم مہاجرین کا موقف ہے کہ چالیس برس پاکستان میں گزارنے کے بعد یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستان سے افغانستان واپس چلے جائیں جبکہ افغانستان کی صورتحال بدستور خراب ہے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات فواد حسین چوہدری کا بھی خیال ہے کہ افغان مہاجرین کی مہاجر کیمپوں سے شہری و دیہی علاقوں میں منتقلی کو روکنا ہوگا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ افغان مہاجرین مہاجر کیمپوں سے ملک کے دیگر حصوں کی طرف نہ جائیں کیونکہ یہ ملک میں امن وامان کی خرابی کا باعث بن سکتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین کی افغانستان واپسی اور اس حوالے عالمی کردار کی بارہا درخواست کرچکا ہے لیکن افغانستان اپنے شہریوں کی واپسی پر کوئی قدم اٹھانے سے قاصر ہے۔ پاکستان کا شروع دن سے افغانستان میں جاری امن کی کوششوں کی نہ صرف حمایت کی ہے باوجود اس کے عالمی سطح پر پاکستان کو شک کی نگاہ دے دیکھا جانا ایک تشویش کا باعث ہے۔ افغانستان میں امن صرف اس وقت ممکن ہے جب افغانستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر افغانستان کا سیاسی حل تلاش کریں اور اس حل کے پیش نظر ہی افغان مہاجرین کی پاکستان سے باعزت طریقے سے واپسی ممکن ہوسکے گی۔ ہم دعاگو ہیں افغانستان میں تمام فریق اتفاق رائے سے قیام امن کی کوششوں میں کامیاب ہوں اور افغان شہری بھی باعزت طریقے سے زندگی گزار سکیں۔