Jalal urdin Rumi

تعلیمات رومی :۔ “توبہ کا دروازہ”

syed nizam ud din chishti
پوڈ کاسٹ:۔ سید نظام الدین چشتی

حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمتہ الله عليہ کے مزار کی عمارت کے صدر دروازے پر ان کی ایک فارسی رباعی تحریر ہے۔

باز آ باز آ ہرآنچہ ہستی بازآ
گر کافرو گبرو بُت پرستی باز آ
ایں درگہِ ما درگہ نو میدی نیست
صد بار اگر کو بہ شکستی باز آ

ترجمہ:۔ واپس آجا واپس آجا۔ تُو جو کوئی بھی ہے واپس آ جا۔ اگر تُو کافر اور مُشرک اور بُت پرست بھی ہے تو واپس آجا۔ ہماری یہ درگاہ نااُمیدی کی درگاہ نہیں۔ اگر تُو سو بار بھی توبہ توڑ چکا ہے پھر بھی واپس آجا۔

حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللہ علیہ اپنے دور کے اکابر علماء میں سے ایک تھے۔ آپؒ فقہ اور مذاہب کے بہت بڑے عالم تھے۔ لیکن حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللہ علیہ کی شہرت بطور ایک صوفی شاعر کے ہوئی۔ دیگر علوم میں بھی آپ رحمتہ اللہ علیہ کو پوری دستگاہ حاصل تھی۔

دوران طالب علمی میں ہی پیچیدہ مسائل میں علمائے وقت حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللہ علیہ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ حضرت شاه شمس تبریز رحمتہ اللہ علیہ حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللہ کے پیر و مرشد تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے لوگوں کی اصلاح کیلئے شاعری کے ساتھ سبق آموز حکایات بھی لکھیں۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ایک عابد شخص کا واقعہ لکھا ہے کہ ایک بوڑھا عابد بڑا شَب زِندہ دار تھا۔ پوری رات عبادت میں مصروف رہتا اور صبح اُ ٹھ کر لوگوں کو کڑوے کسیلے جملے کستا اور کہتا ساری ساری رات پڑے سوتے رہتے ہو۔

یہ بوڑھا شخص اپنی عبادت پر بڑا غرور کرتا اور بڑے فخر سے کہتا کہ درویش تو ماشاءاللہ 40 سال سے شب زندہ دار ہے۔ پوری رات عبادت میں مصروف رہتا ہے۔ یہ شخص اپنی عبادت پر خوب اکڑتا۔

Allah Prays

آپؒ فرماتے اللہ سے تعلق کے دور میں اتنے خطرات باہر سے نہیں ہوتے جتنے اندر سے ہوتے ہیں اور یہ بہت نازک مرحلہ ہوتا ہے۔ نفس گمراہ کرتا ہے اور بہکاتا ہے کہ تو بڑی شے ہو گیا۔ تیرے جیسا عبادت گزار اور کوئی نہیں۔

ایک شب حق تعالی کی طرف سے اس بوڑھے شخص کے ذہن میں بات آئی کہ تمھاری ایک بھی عبادت قبول نہیں۔ وہ بوڑا شخص صبح اُٹھ کر روتا ہے۔ کسی سے بات نہیں کرتا زار و قطار آنسو بہاتا ہے۔ اتنے میں اس کا ایک بے تکلف دوست آتا ہے اور اس سے رونے کی وجہ معلوم کرتا ہے۔ جس پر وہ بوڑھا شخص جواب دیتا ہے۔

جتنی عبادت تھی منہ پر مار دی گئی ۔ پورے 40 برس کی عبادت نامنظور ہوگئ۔ میری عبادت کی کوئی قیمت نہیں۔ میں نہ روؤں۔

اس بوڑھے شخص کا دوست بھی بڑا عجیب تھا کہنے لگا جب 40 برس کی عبادت کی کوئی قیمت نہیں بنی تو تم بھی چھوڑ دو۔ جاؤ مزے کرو۔ جب قبول نہیں کرتا تو تم بھی چھوڑ دو۔ جس پر بوڑھے شخص نے جواب دیا کہ

توانی اذن دل بہ پر داختن
تو دانی کہ بےاُو تماساختن

یہ تو نے کیا کہہ دیا میرے دوست۔ وہ تو محبوب ہی ایسا ہے کہ قبول کرے یا نہ کرے۔ خوش ہو یا ناراض ہو۔ اس کو چھوڑا نہیں جا سکتا۔ اس لیے کہ اس کو سجدے کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ اس کے آگے آنسو بہانے والوں کی بھی کمی نہیں۔ طواف کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ چاہنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ کائنات کا ذرہ ذرہ ہر وقت اس کی حمد و ثنا میں لگا ہے لیکن میرے لیے تو اس در کے سواء کوئی در نہیں۔ تنگ دستی کے ہاتھوں سے جو میں گھبراتا ہوں پر درے غیر پر جاتے ہوئے شرماتا ہوں۔ وہ قبول کرے یا نہ کرے لیکن اس کا در چھوڑ کر کہاں جاؤں۔ یہ ٹوٹے پھوٹے ہی سہی لیکن یہ سجدے ہیں۔ اسی کے سارا دن روتے ہوئے گزرا رات ہوگئی ۔

Sajda

پھر اللہ تبارک و تعالی کے حضور سجدہ ریز ہوگیا اور آواز آئی۔۔۔

قبول است گرچہ ہنر نیستت
کہ جز ما پناہ دگر نیستت

ترجمہ:۔ ہم نے تیرا یہ سجدہ بھی قبول کرلیا اور گزشتہ 40 سالہ عبادت بھی قبول کر لی۔ جب ہم نے تیرے منہ سے یہ سنا کہ ہمارے سواء تیرا اور کوئی نہیں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں اے گناہگار اگر تو نے سوبار بھی توبہ کرکے توڑ دی ہے تو گبھرانے کی کوئى ضرو رت نہیں۔ ایک بار پھر میرے در پر آکر دیکھ۔ ندامت کے آنسو بھاکر دیکھ طلب کا دامن پھیلا کر دیکھ تیرے آنے میں دیر ہو سکتی ہے لیکن میرے راضی ہونے میں دیر نہیں ہوگی۔

YouTube player