جرمنی ، پلاسٹک فضلے کی برآمدات میں نمایاں کمی

جرمنی میں ایک صنعتی ایسوسی ایشن نے انکشاف کیا ہے کہ سال 2021 میں جرمنی سے دوسرے ممالک کو برآمد کیے جانے والے پلاسٹک کے فضلے میں نمایاں کمی آئی ہے جس کی بنیادی وجہ درآمد پر سخت پابندیاں اور وبائی امراض کی وجہ سے سپلائی چین میں خلل پڑنا ہے۔

جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق جرمن ویسٹ، واٹر اینڈ را میٹریلز مینجمنٹ انڈسٹری کی بی ڈی ای فیڈریشن نے کہا کہ گزشتہ سال تقریباً 6 لاکھ 97ہزار ٹن پلاسٹک کا فضلہ بیرون ملک بھیجا گیا جو کہ 2020 کے مقابلے میں ایک تہائی کم ہے.

فیڈریشن کے مطابق اس تعداد میں صنعتی استعمال کیلئے پلاسٹک، پیداواری ضمنی مصنوعات کے طور پر پلاسٹک اور کھانے کی پیکیجنگ شامل ہے۔

واضح‌رہے کہ پلاسٹک کے فضلے کو خام مال سمجھا جاتا ہے۔ اگر صحیح طریقے سے ری سائیکل کیا جائے تو اسے نئی مصنوعات کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسے پالئیےسٹر کے کپڑے اور ردی کے تھیلے وغیرہ.

دنیا کے امیر ممالک سے فضلہ کی برآمدات متنازعہ ہیں اور ان ترقی یافتہ ممالک پر ترقی پذیر ممالک میں کوڑے کو غیر قانونی طور پر پھینکے جانے کے اکثر الزامات لگائے جاتے ہیں۔

خاص طور پر ایشیائی ممالک جب ماحولیاتی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے درآمدات کی اجازت دینے کی بات آتی ہے تو زیادہ پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

BDE نے 2021 میں کمی کی وجوہات کے طور پر ری سائیکل پلاسٹک کی بڑھتی ہوئی گھریلو مانگ اور کورونا وائرس سے متعلق لاجسٹک مسائل کو بھی نامزد کیا۔