پاکستان کا افغانستان سے سرحدی معاملہ سفارتی بنیادوں‌پر حل کرنے پر ذور

پاکستان افغانستان کے درمیان سرحد جسے ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے کہ آج کل تنازع کا شکار ہے لیکن پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحد معاملہ کو سفارتی بنیادوں‌پر حل کرنے پر ذور دیا ہے.

پیر کو اسلام آباد میں‌وزارت خارجہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تسلیم کیا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے سے متعلق ”کچھ پیچیدگیاں ” ہیں. پاکستان افغانستان سے باڑ لگانے کا تنازعہ سفارتی طور پر حل کرے گا اور اس معاملے پر افغان طالبان حکومت سے بات کی جا رہی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے یہ ریمارکس سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے دیئے جس میں طالبان جنگجوؤں کو سرحد کے ساتھ ساتھ پاک افغان باڑ کے ایک حصے کو اکھاڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں طالبان فوجیوں کو خاردار تاروں کے سپول پکڑتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ افغان وزارت دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے کہا تھا کہ طالبان فورسز نے پاکستانی فوج کو سرحد پر ایک ”غیر قانونی” باڑ لگانے سے روک دیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ”ہمیں معلوم ہوا کہ اس طرح کے واقعات پچھلے کچھ دنوں میں ہوئے ہیں اور ہم نے اس معاملے کو افغان حکومت کے ساتھ سفارتی سطح پر اٹھایا ہے۔

سال 2021 کو اہم قرار دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کا کردار، جیو پولیٹکس سے جیو اکنامکس کی طرف منتقلی، ویژن سینٹرل ایشیا، انگیج افریقہ، پبلک ڈپلومیسی اور ڈیجیٹل ڈپلومیسی سمیت کئی اہم پیش رفتوں اور اقدامات نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ او آئی سی ممالک نے حال ہی میں اسلام آباد میں او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کی کانفرنس میں افغانوں کو انسانی امداد کی فراہمی پر بھی اتفاق کیا ہے.

یہ خبر انگریزی زبان میں‌پڑھیں.

وزیرخارجہ نے کہاکہ اقتصادی سفارتکاری سے معاشی اشاریوں میں بہتری آئی ہے جس کے تحت پاکستان میں کاروبار کرنے میں آسانی میں 39پوائنٹس بہتری ، افریقہ کے ساتھ تجارت میں سات فیصد اور پاکستان میں کاروبارکیلئے حوصلہ افزائی میں انسٹھ پوائنٹس کی بہتری آئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ دو ارب نوے کروڑ ڈالر روشن ڈیجیٹل اکائونٹس میں جمع کئے گئے نیا پاکستان سرٹیفیکیٹ میں دو ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی ، ترسیلات زر میں چوبیس اعشاریہ ایک فیصد اضافہ ہوا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات سے دو ارب ڈالر حاصل ہوئے۔

ڈیجیٹل سفارتکاری کا ذکر کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ڈیجیٹل سفارتکاری میں سماجی رابطوں کے مختلف فورم مثلاً ٹوئیٹر، فیس بک اورانسٹا گرام پر ایک سوچودہ مشنز کو آن لائن کیاگیا جس سے شفافیت اوررسائی میں بہتری آئی۔