جوہری توانائی کا حصول متروک ماڈل یا ماحول کے تحفظ کی امید؟

یورپ کے معاشی طور پر مضبوط ملک جرمنی کی جانب سے جوہری بجلی گھروں کو خطرناک قرار دیکر اپنے ملک میں قائم تمام جوہری بجلی گھروں کو رواں برس کے آخر تک بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور حال ہی میں‌3 جوہری گھروں کو مکمل بند کرنے کے بعد یورپ میں جوہری توانائی کے بارے میں بحث نے ایک بار پھر رفتار پکڑی ہے.

جرمنی نے بروکڈروف، گرونڈا اور گنڈرممنگن سی نامی ری ایکٹرز کو غیر فعال کر دیا ہے۔یہ جوہری توانائی گھر ای۔اون اور آر ڈبلیو ای نامی کمپنیاں چلا رہی تھیں جو ملک میں سول مقاصد کیلئے اس توانائی کو آگے فروخت کرہی تھیں۔ یہ جوہری گھر تقریبا 35 سال سے توانائی پیدا کر رہے تھے۔

جوہری توانائی درحقیقت ایک متروک ماڈل ہے لیکن اب توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور یورپی یونین کے ماحولیاتی تحفظ کے اہداف کے نفاذ کے بارے میں بحث میں نئی توجہ حاصل کر رہی ہے اگر یورپی یونین کمیشن اس منصوبے کو حقیقتاً نافذ کرتا، تو یہ مالیاتی منڈیوں کیلئے ایک سفارش کے مترادف ہوگا۔کیونکہ جوہری تنصیبات میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے اقدام کے پیچھے کارفرما قوت فرانس ہے جو روایتی طور پر جوہری توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔

فرانس نے اعلان کیا ہے کہ وہ مستقبل میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے اپنے موجودہ جوہری توانائی گھروں کو اپ گریڈ کرنے کے ساتھ ساتھ نئے جوہری توانائی گھر تعمیر کریگا اور یہ اعلان ایک ایسے وقت میں‌سامنے آیا ہے جب فرانس کو یکم جنوری 2022 کو یورپی یونین کمیشن کی صدارت ملی ہے.

یورپی یونین کمیشن کے ماحولیات کے تحفظ کے منصوبے کے مطابق نئے جوہری پاور پلانٹس میں سرمایہ کاری کے بعد برسلز اتھارٹی کے مسودے کے تحت اگر پلانٹ جدید ترین تکنیکی معیار پر پورا اترتے ہیں تو سبز کے طور پر درجہ بندی کی جائیگی۔ ساتھ ہی، آپریٹرز کے پاس 2050 تک انتہائی تابکار فضلہ کو ٹھکانے لگانے کی سہولت کے آپریشن کیلئے ایک مخصوص منصوبہ ہونا چاہیے۔ خاص طور پر یورپی کمیشن تجویز کرتا ہے کہ 2045 تک نئے جوہری پاور پلانٹس کیلئے جاری کیے گئے اجازت نامے ٹیکسونومی ریگولیشن کے تحت آتے ہیں اور اس کے مطابق تعمیرات کو سبسڈی دی جانی چاہیے۔

ادھر جرمنی کے چانسلر اولاف شولز نے حال ہی میں کہا تھا کہ کمیشن کی تجویز کو “زیادہ سنجیدہ نہیں سمجھا جانا چاہئے کیونکہ کہ رکن ممالک مستقبل میں بھی اخراج سے پاک مستقبل کیلئے اپنے راستے کا فیصلے کا اختیار رکھتے ہیں۔ فرانس کے برعکس جرمنی، قدرتی گیس پر اپنا انحصار بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایسے متبادل ذرائع تلاش کرنا چاہتا ہے جس سے آلودگی نہ پھیلے۔

یورپی یونین کی دو سب سے بڑی معیشتوں کی جانب سے توانائی کے حصول کے لیے مخالف راستے اختیار کرنے کے نتیجے میں یورپی یونین بلاک میں ایک مشکل صورتحال پیدا ہو گئی ہے، کیونکہ یورپی بلاک جوہری توانائی اور قدرتی گیس دونوں کے استعمال کو بعض شرائط کے تحت سرمایہ کاری کے نقطہ نظر سے پائیدار تصور کرتا ہے۔ جرمن حکومت کے ترجمان اسٹیفن ہبس ٹریٹ نے برلن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم جوہری ٹیکنالوجی کو خطرناک سمجھتے ہیں کیونکہ اس کے تابکاری اثرات ہزاروں نسلوں تک برقرار رہتے ہیں۔ ہم یورپی کمشن کے جوہری توانائی سے متعلق بیان کو مسترد کرتے ہیں۔

جرمنی کا شمار یورپ کے ترقی یافتہ صنعتی ملکوں میں کیا جاتا ہے۔ سن 2011 تک وہاں بجلی کی پیداوار کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ جوہری بجلی گھروں سے حاصل کیا جاتا تھا اور ملک میں 17 جوہری ری ایکٹر بجلی پیدا کرنے کیلئے استعمال کیے جا رہے تھے۔

یورپی یونین کمیشن کی طرف سے معاشی سرگرمیوں کی درجہ بندی کا مقصد سرمایہ کاروں کو اپنی سرمایہ کاری کو مزید پائیدار ٹیکنالوجیز اور کمپنیوں میں تبدیل کرنے کے قابل بنانا ہے. یورپی یونین کے انرجی کمشنر قادری سمسن کا خیال ہے کہ جوہری توانائی توانائی کی اونچی قیمتوں کے خلاف جنگ اور موسمیاتی تحفظ کیلئے ایک کردار ادا کر سکتی ہے .

یورپی یونین کی ریاستوں میں جوہری توانائی کے کچھ حامی ہیں کیونکہ بہت سے رکن ممالک کا خیال ہے کہ جوہری توانائی ایک طویل مدتی حل ہو سکتا ہے، کیونکہ قابل تجدید ذرائع اور جوہری توانائی توانائی کی خودمختاری اور آب و ہوا کے اہداف کو حاصل کرنے میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہے۔

فرانس خاص طور پر جوہری توانائی کو فروغ دے رہا ہے اور ماحولیاتی تحفظ کے اہداف کے حصول پر بحث کر رہا ہے۔ حالیہ یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں، صدر ایمانوئل میکرون نے اس کی توسیع پر زور دیا اور انہوں نے حال ہی میں آئندہ صدارتی انتخابی مہم کیلئے ایک بلین یورو کی جوہری توانائی کی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔

ادھر پولینڈ جو کوئلے سے اپنی 70 فیصد بجلی پیدا کرتا ہے، کوئلے کو ختم کرنے کے بعد اتنی جلدی قابل تجدید توانائیوں کی طرف نہیں جا سکتا، یہی وجہ ہے کہ پولینڈ کی حکومت مستقبل میں جوہری توانائی پر بہت زیادہ انحصار کرتی رہے گی اور اس کیلئے فرانس کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔ جبکہ بلغاریہ اور رومانیہ بھی فی الحال جوہری توانائی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں کل دس ممالک نے جوہری توانائی میں سرمایہ کاری کی وکالت کی کہ “سبز سرمایہ کاری” کے طور پر درجہ بندی کی جائے۔

یورپی ترقیاتی بینک کے ایک حالیہ سروے کے مطابق جرمنی کی صرف بارہ فیصد آبادی گلوبل وارمنگ سے نمٹنے کے لیے جوہری توانائی کو وسعت دینے کے حق میں ہے۔تاہم توانائی کی قیمتوں میں حالیہ تیزی سے اضافے نے خود کو اس کے مزاج میں مبتلا کر دیا ہے.