کورونا کیخلاف ناک کا اسپرے متعارف

آسٹریلیا کی میلبورن یونیورسٹی اور میلبورن کی موناش یونیورسٹی کے محققین نے آسٹریلیا کی حکومت کے ساتھ ملکر خون کو پتلا کرنے والا ایک ایسا مادہ تیار کیا ہے جو ناک میں کووڈ-19 کے خلاف آزمائشی دوا کے طور پر اسپرے کیا جا سکتا ہے۔

ناک کے اسپرے کو مستقبل میں کورونا کے خلاف تحفظ حاصل کرنے کیلئے نئی تیار کردہ دوا کے طور پر تصور کیا جارہا ہے تاہم اس دوا کو 2022 کے وسط تک عام استعمال کیلئے متعارف نہ کرائے جانے کا امکان ہے۔

آسٹریلوی محققین نے کہا کہ اگر دوا کو ویکسین کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ کورونا کے خلاف اضافی قوت مدافعت بڑھانے والی دوا کے طور پر فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپرے سے ابتدائی علاج اور ماسک کے طور پر وائرس کو انسان سے دوسرے میں پھیلنے سے روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔

محققین نے بتایا کہ دن میں تین بار ناک میں دو اسپرے کرنے سے وائرس کی منتقلی کو روکنے اور غیر متاثرہ رہائشیوں کو متاثر کرنے کیلئے کام کرتی ہے۔ اگر یہ کارآمد ثابت ہوتی ہے تو اسے عالمی سطح پر کورونا کے خلاف ایک موثر دوا کے طور پر تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

وکٹوریہ کی ریاستی حکومت نے فروری میں شروع ہونے والے کوویڈ سے متاثرہ 400 گھروں میں پہلے 3 ملین ڈالر کے انسانی ٹرائل کیلئے فنڈ فراہم کیے ہیں۔