شدید برفباری، مری آفت زدہ قرار، فوج طلب، 20مسافر ہلاک

ملکہ کوہسار مری میں برف کے خطرناک طوفان کی وجہ سے مری آنے اور جانے والے تمام راستے بند اور ہزاروں سیاح سڑک پر پھنس گئے.شدید برف باری کے باعث گاڑیوں میں 19افراددم گھٹنے اور ٹھٹھر کر ہلاک ہوگئے.

حکومت پنجاب پاکستان نے مری کو آفت زدہ قرار دیدیا ہےاور مری میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے جبکہ وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا کہ مری کی صورتحال کو نارمل کرنے اور لوگوں‌کو نکالنے کیلئے فوج، ایف سی کی خدمات طلب کرلی گئی ہیں. انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ خراب موسم کے باعث مری یا دیگر ہل ایریاز میں‌جانے سے گریز کریں.

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کاکہنا ہے کہ انتہائی ایمرجنسی کی صورت میں صرف گرم سامان لیجانے والی گاڑیوں کو مری اور گلیات کی طرف سفر کرنے کی اجازت دی جائیگی۔

وزیرِ داخلہ نے مزید کہا کہ 15، 20 سال میں پہلی مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں سیاحوں نے مری کا رخ کیا ہے، اتنی بڑی تعداد میں سیاحوں کی مری آمد کی وجہ سے بحران پیدا ہوا۔

وزیرِ داخلہ شیخ رشید مری اور گلیات میں پھنسے مسافروں کی امداد کی مانیٹرنگ کے لیے مری پہنچ گئے، اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مری میں امدادی کارروائیوں کے لیے پاک فوج کی 5 پیدل پلاٹون ہنگامی بنیاد پر منگوائی گئی ہیں، ہنگامی بنیادوں پر ایف سی اور رینجرز کو بھی طلب کر لیا ہے۔

راولپنڈی انتظامیہ نے مری میں پھنسے سیاحوں کی مدد کے لیے ایمرجنسی نافذ کرکے راولپنڈی ڈپٹی کمشنر آفس کو کنٹرول روم بنادیا ہے، شہری برف میں پھنسے اپنے پیاروں کی معلومات ان نمبروں سے حاصل کرسکتے ہیں۔ 0519292963 اور 03005540819

دوسری جانب مری، گلیات اور آزاد کشمیر کے لیے آج رات شدید موسمی صورتِ حال کاا نتباہ جاری کیا گیا ہے، ضلعی انتظامیہ نے مری اور گرد و نواح میں بارش، برف باری اور طوفان کی پیش گوئی کی ہے، 50 سے 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہواؤں کے ساتھ طوفان آ سکتا ہے، جس کے دوران شدید برف باری کا امکان ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے ہدایات جاری کی ہیں کہ مقامی افراد رات گھروں سے نہ نکلیں، ایمبولینس سروسز، سیکیورٹی گاڑیوں اور فائر فائٹرز کو الرٹ رہنے کا کہا گیا ہے۔

یاد رہے کہ برف باری ہونے کی وجہ سے لاکھوں افراد نے گزشتہ روز مری کا رخ کیا تھا، برف باری کی وجہ سے متعدد گاڑیاں سڑکوں پر پھنس گئیں اور ہزاروں سیاحوں نے گزشتہ رات سڑکوں پر گزاری اور کئی افراد کی یہ رات آخری رات ثابت ہوئی.

دوسری جانب خیبر پختونخوااور بلوچستان میں بھی شدید بارش ، لینڈسیلائڈنگ اور برفباری کے باعث کئی ہلاکتیں‌رپورٹ ہوئی ہیں. جبکہ گلگت بلتستان کا کئی دنوں سے پاکستان کے دیگر شہروں‌سے زمینی اور فضائی رابطہ بھی منقطع ہے.