سندھ کےنئے بلدیاتی قانون کیخلاف 48 گھنٹے اہم


نمائندہ منقولات:. فاروق بیگ کراچی
پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے صوبائی اسمبلی میں اکثریت کے ذریعہ سندھ میں اپنی پسند کا نیا بلدیاتی قانون کردیا ہے جبکہ گورنر سندھ عمران اسماعیل کی جانب سے مسترد اور قانون پر دستخط نہ کرنے کے باوجود نیا بلدیاتی قانون صوبے میں نافذ ہے.

سندھ حکومت کے اس نئے بلدیاتی قانون کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں سمیت دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں‌بشمول جماعت اسلامی نے سخت احتجاج اور مظاہرے کیے ہیں اور حکومت سے اس نئے بلدیاتی قانون میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے سندھ کے ہر شہر کے ادارے کے حقوق مقامی اداروں کو دینے کا کہا ہے.

اسی سلسلسے میں‌متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے وزیراعظم عمران خان سے اس نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور دیگر سیاسی جماعتوں‌سے بل کے خلاف حکمت عملی مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے سندھ چیپٹر نے اس قانون کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے اور درخواست جمع کرادی ہے.

دوسری جانب جماعت اسلامی پاکستان کا کراچی سمیت سندھ بھر میں پیپلز پارٹی کی وڈیرہ شاہی اور متنازعہ بلدیاتی قانون کیخلاف سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج گزشتہ ایک ہفتہ سے جاری ہے اور آج جمعہ کو جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے احتجاجی مظاہرہ کی قیادت کی ہے.

پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر سعید غنی نے جماعت اسلامی کے متنازعہ بلدیاتی قانون کیخلاف دئیے جانے والے سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کو لسانی رنگ دینے کی کوشش قرار دیتے نظر آئے.

جماعت اسلامی کراچی کے امیر اور مزاحمتی دھرنا تحریک کے روح رواں انجینئر حافظ نعیم الرحمن نے متعد بار اپنی پریس کانفرنس اور دھرنے کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کی وڈیرہ شاہی مائنٹ سیٹ رکھنے والی صوبائی حکومت نے کراچی سمیت پورے سندھ کے شہروں ،ضلعوں ، گائوں اور گوٹھوں کے اختیارات پر بھی اس متنازعہ سندھ بلدیاتی قانون کی وجہ سے قبضہ کرلیا ہے.

انہوں نے کہا کہ لہذا ہم ہمیشہ سے یہی مطالبہ کرتے آرہے ہیں لاڑکانہ ،خیرپور ،شکار پور اور کراچی سمیت پورے سندھ کے شہروں اور انکی منتخب مقامی حکومتوں کے آئین پاکستان کے آرٹیکل 140Aکے تحت بااختیار بنایا جائے ۔

دوسری جانب سیاسی ماہرین نے پیپلز پارٹی کی حکومت کیلئے آئندہ 48 گھنٹے انتہائی اہم قرار دیئے ہیں اور تجویز دی ہے کہ پیپلزپارٹی کو معاملے کو مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے کو یقینی بنانا چاہیے. سیاسی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے جماعت اسلامی کو پرامن احتجاج کی اجازت دے کر ایک اچھی مثال قائم کی ہے. سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کو جماعت اسلامی کو مذاکرات کی دعوت دے کر متنازعہ سندھ بلدیاتی قانون میں ترامیم آگے بڑھنا چاہیے اور حکومت کیخلاف سیاسی درجہ حرارت کو نارمل کرنا چاہیے.

یاد رہے کہ سندھ حکومت کی اسی وڈیرہ شاہی اور اداروں کو سیاسی طور استعمال کرنے پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے پیپلزپارٹی نواز ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب کو عہدے سے ہٹادیا تھا تاہم مرتضی وہاب کی جانب سے غیر مشروط معافی اور سیاسی طور پر ایڈمنسٹریٹر کے عہدے کے استعمال نہ کرنے کی یقینی دہانی پر انہیں‌بحال کردیا گیا تھا تاہم ایڈمنسٹریٹر کی سیاسی گرمیاں بھی بدستور جاری ہیں.

اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی جو 27 فروری سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف مارچ کرنے والی ہے اس کی صوبائی حکومت کب تک اس مسئلے سے نمٹتی ہے.