بالآخر، کراچی والوں‌کو جدید ٹرانسپورٹ مل گئی

syed nizam ud din chishti
رپورٹ: سید نظام الدین چشتی

پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی وہ شہر ہے جو پاکستان کے جی ڈی پی میں سب سے زیادہ حصہ ڈالتا ہے اور اس شہر میں پورے پاکستان سے لوگ روزگار کی تلاش میں پاکستان آتے ہیں۔ اسی لیے اسے منی پاکستان کہا جاتا ہے۔

کسی بھی میٹروپولیٹن شہر کی ترقی اور بہت زیادہ آبادی والے شہر کیلئے بہترین ٹرانسپورٹ کا نظام بنیادی ضرورت ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان کا سب سے بڑے شہر اور ملک کا معاشی مرکز کراچی ان بنیادی سہولتوں سے کافی عرصہ سے محروم رہا لیکن وفاقی حکومت نے اس شہر کے عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہم کیلئے کئی اقدامات کیے اور دیگر پر کام جاری ہے۔ ان میں ایک بڑا منصوبہ ٹرانسپورٹ کا ہے جسے گرین لائن بس ٹرانزٹ پروجیکٹ یعنی کہ گرین لائن بس سروس کہا جاتا ہے۔

یہ منصوبہ کافی عرصہ سے ماضی کی حکومتوں کی لاپروائی کی وجہ سے التوا کا شکار تھا لیکن پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے اس منصوبے کو مکمل کرکے شہر قائد کے عوام کو بہترین سفری سہولیات سے آراستہ کیا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے وعدے کے مطابق شہرِ قائد میں گرین لائن بس سروس مکمل طور پیر بروز 10 جنوری کی صبح مکمل طور پر فعال کردی گئی۔ یومیہ 80 بسوں کے ذریعے ایک لاکھ 35 ہزار شہری سفر کی سہولت حاصل کرسکیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ برس 10 دسمبر کو اس منصوبہ کا افتتاح کرتے ہوئے اس منصوبے کو کراچی کے عوام کیلئے ایک بڑا تحفہ قراردیا تھا اور کہا تھا کہ کوئی بھی جدید شہر جدید ٹرانسپورٹ کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا اور ٹرانسپورٹ سسٹم کسی بھی شہر یا ملک کی ترقی کیلئے پہلا قدم ہوتا ہے۔

گرین لائن بس کے روٹ، کرائے اور بسوں کی تعداد کے حوالے سے گرین لائن بس مینجر بلال خالد کا کہنا ہے کہ ایک بس میں تقریبا 150 کے قریب مسافر سفر کرسکتے ہیں۔ اس سروس کا آغآز پہلے مرحلے میں عبداللہ چوک سرجانی اور اختتام نمائش چورنگی مزار قائد تک ہوگا۔ 22 کلومیٹر کے روٹ میں 12 کلومیٹر سطح زمین سے بلند جب کہ اس میں 23 اسٹیشن ہیں۔ ایک لاکھ 35 ہزار مسافروں کے یومیہ سفر کے اندازے کے ساتھ بس کا کرایہ 15 روپے تا 55 روپے رکھا گیا ہے۔

شہر قائد کے شہریوں نے وفاقی حکومت کو منصوبے کی تکمیل پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ بالاخر کراچی کے شہریوں کو بھی بہترین سفری سہولیات کا خواب پورا ہوا اور اب انہیں رکشوں چنگچی میں دھکے نہیں کھانا پڑیں گے اور وقت کی بچت ہوگی۔

یاد رہے کہ 35 ارب روپے مالیت سے تیار ہونے والے اس منصوبے کا آغاز فروری 2016 میں رکھا گیا لیکن ماضی کی حکومتوں کی عدم دلچسپی کے باعث یہ منصوبہ مکمل نہ ہوسکا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار میں آکر کراچی کیلئے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کا اعلان کیا جس میں کئی جاری اور کئی نئے منصوبے شامل تھے اور اس پلان کے تحت گرین لائن بس منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا اور شہریوں کو جدید اور آرام دہ بہترین سفری سہولیات فراہم کیں۔

اب یہ شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس منصوبے کو اپنا سمجھیں اور منصوبے سے دیرپا سہولت حاصل کرنے کیلئے اس کا خیال رکھیں۔

کراچی گرین لائن بس منصوبہ ایک اچھا آغاز ہے اور اگر مستقبل میں ایسے مزید منصوبے متعارف کرائے جائیں تو اس شہر کی ٹرانسپورٹ کا مسئلہ مکمل حل ہوسکتا ہے اور اس کیلئے ضرورت سے ایک مضبوط ارادے کی ہے۔