جرمنی، لازمی ویکسین کا معاملہ زیربحث

جرمنی میں ملک گیر لازمی ویکسینیشن کا حکومتی منصوبہ ملک کا حساس ترین سیاسی مسئلہ بن چکا ہے اور اتحادی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ وضاحت پیش کرے کہ وہ اسے کس طرح نافذ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اگرچہ دائیں اور بائیں بازو کی زیادہ تر جماعتیں اس قدم کی حمایت کررہی ہیں‌اور جرمن چانسلر اولاف شولز کا اس حوالے سے فروری یا مارچ کے آغاز کا اصل ٹائم ٹیبل تیزی سے غیر متوقع دکھائی دے رہا ہے۔

حکومتی اتحاد میں شامل تینوں جماعتوں کا خیال ہے کہ افراد یا اراکین پارلیمنٹ کے گروپوں کی تجاویز کے بجائے کسی ایک مسودہ قانون پر جس پر کابینہ متفق ہو آگے بڑھنے کا بہترین طریقہ ہے اور اس ماڈل کے مطابق بنڈسٹاگ پارلیمنٹ میں آزادانہ ووٹنگ ہونی چاہیے۔

دوسری جانب حزب اختلاف کے قدامت پسندوں نے اس نقطہ نظر پر تنقید کی ہے۔

پارلیمنٹ میں قدامت پسند بلاک کے ایک سینئر رکن تھورسٹن فری نے منگل کے روز کہا کہ کرسچن ڈیموکریٹس (سی ڈی یو) اور ان کی اتحادی کرسچن سوشل یونین (سی ایس یو) اپنے حق میں کوئی مسودہ تجویز پیش نہیں کریں گی اور معاملے کو مضبوطی سے اتحادیوں کے سامنے رکھیں گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کا خیال ہے کہ لازمی ویکسینیشن ہمیں وبائی مرض سے نکالنے کا ایک طریقہ ہے، تو انہیں اس کے لیے ایک قانون سازی کی تجویز پیش کرنی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: جرمنی : اومیکرون کا خطرہ، سیروتفریح کیلئے سختیاں، قرنطینہ میں نرمی

ادھر اتحادی جماعت گرینز کے ایک ماہر صحت نے منگل کو کہا کہ CDU/CSU سیاستدان معاملے پر سیاست کررہےہیں۔ انہوں نے اپیل کہ کہ وہ پارٹی کے ہتھکنڈوں کے لیے اپنی سماجی ذمہ داری کو قربان نہ کریں۔