فرانس، ایک لاکھ 82ہزار جعلی ہیلتھ پاسز پکڑے گئے

فرانسیسی پولیس نے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کیلئے اس موسم گرما میں دستاویزات متعارف کرائے جانے کے بعد سے اب تک ایک لاکھ 82ہزار جعلی کورونا ہیلتھ پاسز کو بے نقاب کیا ہے.

واضح رہے کہ جعلی پاسز کے خلاف پولیس کا کریک ڈاؤن ایسے وقت میں آیا ہے جب فرانس اور دیگر ممالک اومیکرون ویرینٹ کے پیش نظر پابندیاں سخت کر رہے ہیں جو پورے یورپ میں بجلی کی رفتار سے پھیل رہا ہے۔

یاد رہے کہ فرانس میں صدر ایمانوئل میکرون نے جولائی 2021 میں سرکاری پاس متعارف کرائے تھے تاکہ ویکسین شدہ افراد یا کورونا کی منفی رپورٹ کے پاسز دکھا کر مختلف مقامات تک رسائی حاصل کرسکیں جن میں ریستوراں شاپنگ سینٹر، ٹرانسپورٹ کی سہولت اور دیگر شامل تھے.

وزیر داخلہ جیرالڈ ڈارمینن نے گزشتہ ہفتے پولیس سے کہا کہ وہ مجرمانہ نیٹ ورکس یا جعلی پاسز کے پیچھے موجود افراد کے بارے میں اپنی تحقیقات کو تیز کرے، کیونکہ انتہائی متعدی نئے اومیکرون قسم کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔

وزیر داخلہ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ خاص طور پر سوشل میڈا کے ذریعے جھوٹے ہیلتھ پاسز کا استعمال، خریدنا یا فروخت کرنا آسان ہے لیکن جعلی ہیلتھ پاسز کے حامل افراد کو 5 سال قید اور 75 ہزار یورو تک جرمانے کی سزا ہے۔

یاد رہے کہ فرانس کے ہیلتھ پاس کے متعارف ہونے کے بعد ہفتوں طویل ملک گیر احتجاج ہوا اگرچہ احتجاجی ریلیوں کا حجم کم ہو گیا ہے، لیکن ویکسینیشن مراکز اور دیگر مقامات پر توڑ پھوڑ کے واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔

فرانسیسی وزیر اعظم جین کاسٹیکس نے جمعہ کے روز کہا کہ حکومت جنوری میں پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کرے گی جس میں سرکاری ہیلتھ پاس کو “ویکسین پاس” میں تبدیل کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ صرف ویکسین یافتہ لوگوں کو ہی اندرونی عوامی مقامات جیسے بارز، ریستوراں اور سینما گھروں میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔ .

واشنگٹن پوسٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک کا تقریباً 72 فیصد حصہ مکمل طور پر ویکسین شدہ ہے۔