جرمنی میں کورونا کی چوتھی لہر کی تباہ کاریاں، مکمل لاک ڈاؤن کا امکان

جرمنی سمیت یورپ بھر میں‌کورونا کی چوتھی لہر تیزی سے پھیلنے لگی ہے اور یورپ کے کئی ممالک نے لاک ڈاؤن کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے.کورونا کی چوتھی لہر کی شدت کے پیش نظر کرسمس کی تمام مارکیٹیں بند اور بازاروں میں‌غیرویکسین شدہ افراد کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کی جارہی ہے.

جرمنی میں بھی کورونا کی چوتھی لہر نے پنجے گاڑنا شروع کردیے ہیں اور تمام صوبائی ریاستیں‌وفاقی حکومت کے ساتھ چوتھی لہر سےنمٹنے کی حکمت عملی مرتب کرنے کیلئے اجلاس کرنے والی ہیں.

دریں‌اثناء میڈیا رپورٹس کے مطابق کورونا کے کیسز میں اضافے کے پیش نظر جرمن پارلیمنٹ نے کورونا کیخلاف نئی پابندیوں‌کے نفاذ کی منظوری دیدی ہے. جس کے تحت غیر ویکسین شدہ افراد اب کرسمس مارکیٹس اور ریسٹورنٹس میں نہیں جا سکیں گے . نئی پابندیوں کے تحت ملازمین کیلئے کورونا کی روزانہ کی بنیاد پر ٹیسٹک کی جائیگی.

نئی قانون سازی کے تحت کورونا وائرس کے دستاویزات اور سرٹیفکیٹس کی جعل سازی پر پانچ برس تک قید کی سخت سزا ہوگی ۔ یاد رہے کہ جرمنی میں ویکسین کے جعلی سرٹیکفیٹ ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے.

کورونا کی چوتھی لہر پوری قوت کیساتھ جرمنی پر حملہ آور ہے، انجیلا میریکل

جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے ملک میں کوویڈ 19 کی صورتحال کو “ڈرامائی” قرار دیا ہے کیونکہ سبکدوش ہونے والی چانسلر اس بات پر پرزور غور کررہی ہیں کہ انفیکشن کی شرح سے کیسے نمٹا جائے جو جرمنی میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔

ڈوئچے ویلے اور کئی دیگر جرمنی ذرائع ابلاغ کے مطابق انجیلا میرکل نے جرمن شہروں کی ایسوسی ایشن کیلئے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کی چوتھی لہر ہمارے ملک کو پوری طاقت سے نشانہ بنا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر کورونا کیسز کی نئی ریکارڈ تعداد سامنے آرہی ہے۔ جبکہ اموات کی تعداد میں بھی خطرناک حد تک روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ فی الحال کویڈ ویکسین لگانے میں اتنی تاخیر نہیں ہوئی لہذا عوام جلد ازجلد کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوائیں.

جرمن چانسلر کا بیان اس وقت سامنے آیا جب جمعرات کو جرمنی بھر میں 65 ہزار سے زائد نئے کیسز ریکارڈ ہوئے اور 264 اموات رپورٹ ہوئیں.

واضح رہے کہ انجیلا میرکل کی حکومت اور تمام صوبائی ریاستی رہنما اس ہفتے ملک بھر میں ممکنہ نئی سخت پابندیوں کے نفاذ کے جائزہ کیلئے ایک اجلاس منعقد کررہے ہیں۔ جبکہ کئی ریاستوں اور شہروں نے پہلے ہی سخت پابندیاں اور لاک ڈاؤن نافذ کردیا ہے اور عوام سے کہا کہ وہ عوامی مقامات پر کورونا ویکسین کے سرٹیفکیٹ ضرور ساتھ رکھیں اور طلب کرنے پر پیش کریں.

جرمنی بھر میں کرسمس کی تقریبات اور مارکیٹ کیلئے کوویڈ کے قوانین کو مزید سخت کیا جارہا ہے۔ جبکہ میونخ میں کرسمس مارکیٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جرمنی کے صوبے ژاکسنی میں جلد ہی مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ادھر جرمنی میں کورونا وائرس کیسز میں اضافے پر ویکسین ایڈوائزری کمیٹی نے 18سال سے زائد عمر کے تمام افراد کیلئے کورونا ویکسین بوسٹر شاٹ کی سفارش کردی۔ کمیٹی کےمطابق کورونا ویکسین کا بوسٹر شاٹ آخری کورونا ویکسین خوراک کے 6 ماہ بعد لگایا جائے۔

یاد رہے کہ صرف جرمنی ہی نہیں آئرلینڈ، نیدرلینڈز، سلوواکیہ اور آسٹریا میں بھی کورونا کے نئے ریکارڈ کیسز یومیہ بنیاد پر رپورٹ ہورہے ہیں اور ان ممالک کی حکومتوں نے سخت پابندیاں عائد کردی ہیں.جبکہ آسٹریا میں‌مکمل لاک ڈاؤن کیلئے حکومت پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے.

علاوہ ازیں منقولات میڈیا گروپ جرمنی سمیت پورے یورپ ، امریکا اور پاکستان میں کورونا کی چوتھی لہر کے دوران عوام سے کورونا سے بچاؤ کیلئے حکومت کی جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر پوری طرح عمل کرنے کی اپیل کرتا ہے۔ عوام سے پرزور اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگی کو محفوظ اور اس وبا سے بچنے کیلئے جتنا جلد ہوسکے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوائیں۔