بہتر دماغی صحت صحتمند معاشرے کیلئے ضروری ہے، ماہرین

معروف ماہر نفسیات پروفیسر ڈاکٹراقبال آفریدی نے کہا کہ دماغی صحت مکمل جسمانی، ذہنی، سماجی اور روحانی تندرستی کا نام ہے اور صرف بیماری کا نہ ہونا ہی نہیں ہے، دماغی طور پر صحت مند شخص جانتا ہے کہ وہ معاشرے میں کس طرح ایک فعال کردار ادا کرسکتاہے، بہتر سماجی تعلقات ذہنی امراض کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے جامعہ کراچی کے سینٹر آف ہیلتھ اینڈ ویل بِینگ کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار بعنوان: ”چلوبات کرتے ہیں: آپ کو کیا پریشان کررہاہے؟“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت کے بغیر صحت کا تصور ممکن نہیں،ایک مستحکم ذہن ہی اپنی صلاحیتوں کا بھرپور ادراک کرسکتاہے،زندگی کی پریشانیوں سے نمٹ سکتاہے اور ملک وقوم کی فلاح میں اپنا کردار اداکرسکتاہے۔

ملکی موجودہ معاشی صورتحال سے معاشرے میں ذہنی دباؤ کی شکایات میں اضافہ ہورہاہے۔ڈاکٹر خالد عراقی

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمودعراقی نے کہا کہ دنیا بھر بشمول پاکستان میں ذہنی بیماریوں کی شرح میں روز بروز اضافہ ہورہاہے جس کی بڑی وجوہات میں عدم تحفظ،غربت،تشدد،دہشت گری،معاشی مسائل،سیاسی عدم استحکام،بیروزگاری اور جنسی امتیاز شامل ہیں۔شعبہ نفسیات کا معاشرے میں بڑھتی ہوئی ذہنی بیماریوں کے سد باب میں کلیدی کردار ہے.

وائس چانسلر نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ نفسیاتی بیماریوں سے متعلق معاشرے میں وسیع تر آگاہی کو فروغ دیا جائے اور مذکورہ کانفرنس اس سلسلے میں نہایت معاون ثابت ہوگی۔ہمیں زیادہ جینے کی خواہش کے بجائے صحتمند زندگی گزارنے کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحتمند دماغ ہی صحتمند معاشرے کے ضامن ہوتے ہیں۔ملک کی موجودہ معاشی صورتحال اور دن بدن بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے پاکستانی معاشرے میں ذہنی دباؤ کی شکایات میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے جو قابل توجہ اور حل طلب مسئلہ ہے۔

ملیر یونیورسٹی کے چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ٹیپوسلطان نے کہا کہ اپنے مسائل کے حل کے لئے دوسروں سے مشورہ کرنے میں کوئی عارمحسوس نہیں کرنی چاہیئے،کیونکہ باہمی مشاورت سے ہی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ہمیں دوسروں کی رائے سننے،برداشت کرنے اور اہمیت دینے کی ضرورت ہے،اسی صورت ہم ایک صحتمند معاشرے کا خواب شرمندہ تعبیر کرسکتے ہیں۔

شعبہ نفسیات جامعہ کراچی کی پروفیسر ڈاکٹر فرح اقبال نے کہا کہ اس طرح کے شعوری اور معلوماتی،سیمینار زاور پروگرامز وقت کی اہم ضرورت ہے۔ شعبہ نفسیات کی ڈاکٹر صدف احمد نے سینٹر ہذا کے اغراض ومقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی اور سینٹر میں ہونے والی سرگرمیوں سے شرکاء کو آگاہ کیا۔

یہ مضمون انگریزی میں‌پڑھیے.

ڈاکٹر ٹیپوسلطان،ڈاکٹر اقبال آفریدی،شعبہ مائیکروبائیولوجی جامعہ کراچی کے چیئر مین ڈاکٹر تنویر عباس،بحریہ یونیورسٹی سے پروفیسرڈاکٹر شازیہ شکورکی سربراہی میں پینل ڈسکشن کا بھی انعقاد ہوا،جس میں ذہنی صحت کے حوالے سے ابہام اور حقائق پہ گفتگو ہوئی اور شرکاء نے بھرپور ساتھ دیا۔

ملیر یونیورسٹی کے ڈائریکٹر کوالٹی انہانسمنٹ سیل شمعون نوشاد نے اپنی اعزازی گفتگو میں جذبات کے اظہار کے شافی اثرات کے بارے میں بتایا اور کہا کہ صحیح وقت پر مناسب پیرائے میں اپنے جذبات کی نمائندگی کرنا کتنا اہم ہے۔ مثبت اور منفی جذبات پر ڈاکٹر فیضان مرزا کی معلوماتی اور دلچسپ گفتگو بھی تقریب کا حصہ رہی۔

سیمینارکے اختتام میں ڈائریکٹرآفس آف ریسرچ اینوویشن اینڈ کمرشلائزیشن جامعہ کراچی ڈاکٹر عالیہ رحمان اور پروفیسر ڈاکٹر تنویر عباس نے مہمانان گرام اور شرکاء کا تقریب کو کامیاب بنانے پر شکریہ ادا کیا۔