بیجنگ اولمپکس، یورپی یونین بائیکاٹ پر ہچکچاہٹ کا شکار

فرانس اور نیدرلینڈز چین میں 2022 کے اولمپک گیمز کے سفارتی بائیکاٹ پر یورپی یونین کا مشترکہ نقطہ نظر تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن جلد ہی کسی فیصلے پر پہنچنے کا امکان نہیں ہے۔

امریکا، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی طرح یورپی یونین چین میں انسانی حقوق پر تحفظات کی وجہ سے فروری میں بیجنگ سرمائی کھیلوں میں اپنے سفارتی عملے کو نہ بھیجنے کے فیصلے پر تقسیم ہے۔

واضح رہے کہ یورپی یونین کے وزراء خارجہ جمعرات کو رواں سال کے آخری سربراہی اجلاس میں اس مسئلے پر بحث کرنے والے ہیں کیونکہ فرانس اور نیدرلینڈ نے باضابطہ طور پر اس بحث کو ایجنڈے پر شامل کیا ہے۔

یورپی یونین کے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ بلاک میں چین کا سب سے قریبی اتحادی ہنگری کبھی بھی سفارتی بائیکاٹ کی حمایت نہیں کرے گا لیکن باقی 26 ارکان میں اتفاق رائے ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ سفارتی بائیکاٹ کا مقصد اولمپکس میں حکومتی و ریاستی عملے کی نمائندگی نہ کرنا ہے تاہم کھلاڑی ضرور شرکت کرسکتے ہیں.

دوسری جانب روس نے بیجنگ سرمائی اولمپکس 2022 کے معاملے پر چین کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے.

روس کے اولمپکس کمیٹی کے چیف نے اعلان کیا ہے کہ روس یورپی ممالک کی طرف سے 2022 سرمائی اولپکس کیلئے چین کے سفارتی بائیکاٹ کے اعلان کی حمایت نہیں کرے گا کیونکہ یہ ایک انتہائی احمقانہ عمل ہے۔

جبکہ فرانس نے بھی بیجنگ سرمائی اولمپکس کا بائیکاٹ نہ کرنے کا اشارہ دیا ہے۔