کورونا ویکسین، گھریلو خواتین نظرانداز، حکومت کی نئی حکمت عملی تیار

پاکستان کے دوسرے بڑے صوبے سندھ کی صوبائی حکومت نے کراچی سمیت سندھ میں‌کورونا کی نئی لہر اور نئی قسم اومیکرون کے خطرے کے پیش نظر صوبے بھر میں‌گھر گھر خواتین کی ویکسینیشن مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ فیصلہ گھریلو خواتین کی جانب سے ویکسین نہ لگوانے یا گھر کے سربراہ کی جانب سے نظرانداز کیے جانے کے باعث کیا گیا ہے.

سندھ اسمبلی میں‌پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت قاسم سومرو کے مطابق حالیہ لہر میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ تر گھریلو خاتون اور گھروں‌پر کام کرنے والی خواتین نے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین نہیں لگائی ہے جو سندھ میں کورونا کی نئی قسم اومیکرون کے پھیلاؤ کاسبب بن سکتی ہے.

قاسم سومرو نے کہا کہ اس صورتحال کے پیش نظر صوبے بھر میں‌لیڈی ہیلتھ ورکرز کی مدد سے گھر گھر جاکر ویکسین لگانے کی مہم شروع کی جارہی ہے.کیونکہ کورونا کے خلاف خواتین کی ویکسینیشن کو ان کے خاندان کے سربراہان نے بڑی حد تک نظر انداز کیا ہے، خاص طور پر وہ خواتین جو گھریلو خواتین ہیں اور سرکاری اور نجی شعبے کے دفاتر میں کام نہیں کرتی ہیں۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ اومیکرون ویریئنٹ کے 37 ٹیسٹ کیے جانے پر 30 مزید کیسز سامنے آئے جبکہ کورونا وائرس کے 12961 ٹیسٹ کرانے پر 756 نئے کیسز سامنے آئے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 2 سے 5 جنوری کے درمیان اومیکرون کے 37 ٹیسٹ کئے گئے جس میں مزید 30 کیسز سامنے آئے جس سے مجموعی تعداد 307 ہوگئی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر اومیکرون کے کیسز مقامی طور پر منتقل ہوئے ہیں۔