اسپین ، 2020 میں 4لاکھ تارکین وطن ہلاک یا لاپتہ

غیر سرکاری تارکین وطن کے حقوق کی تنظیم واکنگ بارڈرز کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال کے دوران کل 4 لاکھ 404 تارکین وطن صرف اسپین میں داخل ہونے کی کوشش میں اپنی جان کی بازی ہارگئے جو2020 کے مقابلہ میں دوگنی ہے.

واضح‌رہے کہ مذکورہ تنظیم کے شائع کردہ اعداد و شمار اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرین (IOM) کے شائع کردہ اعداد و شمار کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں.

شنگھائی ویز انفو کی رپورٹ کے مطابق سرحدی نگرانی پتا چلا ہے کہ پچھلے سال مرنے والے افراد کی اکثریت شمالی افریقہ سے اسپین کے کینری جزیروں کی طرف آ رہی تھی اور ان مرنے والے خواتین اور بچے شامل ہیں. رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 628 خواتین اور 205 بچے ہجرت کے دوران اپنی جان گنوا بیٹھے.

واکنگ بارڈر نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ مہاجرین کو کنٹرول کرنیکی پالیسیاں ڈرائیونگ کا ایک لازمی عنصر رہی ہیں۔ اسپین کے حکام کی طرف سے فراہم کردہ اعدادوشمار کی بنیاد پر، گزشتہ سال کے دوران سمندری راستے سے 39 ہزار سے زیادہ افراد کی آمد ہوئی تھی۔ تنظیم کے مطابق اسپین کے حکام ان افراد کا پتہ لگانے میں‌ناکام ہوتے ہیں جو براستہ سمندر ساحل تک پہنچنے سے قبل ہی مرجایا کرتے ہیں.

اس حوالے سے تنظیم کی بانی ہیلینا مالینو نے کہا کہ ہر کشتی کی قسمت کی تحقیقات کی جاتی ہیں اور جو لوگ ایک ماہ سے زائد عرصے سے سمندر میں لاپتہ ہیں ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مردہ ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق یورپ نے 2015 سے مشرق وسطیٰ سے آنے والے مہاجرین کی بڑھتی تعداد کا سامنا کیا ہے۔ ہجرت کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جرمنی نے تقریباً 14 ملین غیر ملکی نژاد شہریوں کو رہائش دی اور یہ وہ ملک ہے جہاں سب سے زیادہ 2018 میں یورپ میں تارکین وطن کی میزبانی کی گئی. .

حال ہی میں شنگھائی ویزا انفو کے مطابق 11 ہزار سے زائد افراد نے غیر قانونی طریقے سے جرمنی میں داخل ہوئے اور ان لوگوں نے پولینڈ کو ٹرانزٹ ملک کے طور پرا ستعمال کیا ہے.