کورونا کی نئی قسم “اومیکرون “یورپ، کینیڈا پہنچ گئی، جی 7 کا اجلاس طلب

جنوبی افریقہ سے پھیلنے والی کورونا وائرس کی نئی قسم “اومیکرون” جرمنی سمیت یورپ اور کینیڈا تک پھیل چکی ہے.

میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمنی میں 6 افراد میں کورونا کے اومیکرون ویرینٹ کی نشاندہی ہوگئی ہے جس میں‌3 جرمنی صوبے باویریا، ایک ہیسن اور دو نارتھ ویسٹ فیلیا میں‌دریافت ہوئے ہیں.

یاد رہے کہ عالمی ادارہ برائے صحت نے کورونا کی نئی قسم کو باعث تشویش قرار دیتے ہوئے وائرس کی نئی قسم کو ‘اومیکرون ‘کا نام دیا ہے. وائرس کا تکنیکی نام ‘بی ڈاٹ ون ڈاٹ ون فائیو ٹو ‘نائن ہے۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق نئی قسم میں کورونا وائرس نے بڑے پیمانے پر اپنی ہیت اور شکل تبدیل کر لی ہے اور اس وائرس کی قسم میں 10 جینیاتی تبدیلیاں ہیں۔

خیال رہے کہ اومیکرون ویرینٹ کورونا سے متاثرہ افراد اور کورونا کیخلاف قوت مدافعت رکھنے والے افراد کو بھی نشانہ بنارہاہے.جس میں متاثرہ افراد کو ہلکے بخار، سر اور جسم درد کی شکایات ہوتی ہیں تاہم بیمار افراد پر اس وائرس کے حملے کی فی الحال نشاندہی نہیں‌ہوسکی ہے.

جرمنی کی سائنٹفیک انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ کورونا کی یہ قسم “اومیکرون” ایڈز سے متاثرہ افراد سے پھیلنے کے خدشات ہیں کیونکہ ان افراد میں قوت مدافعت کم ہوتی ہے .

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ وائرس اس وقت یورپ میں‌تیزی سے پھیل رہا ہے.ہالینڈ نے 300 سے زائد مسافروں کو ایمسٹرڈیم میں ایک بڑے ہوٹل میں قرنطینہ میں رکھا ہے اور ان میں سے 50 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے تاہم اس ویرینٹ کی تصدیق کیلئے لیبارٹریز کو چار سے پانچ دن درکار ہیں.

ادھر جنوبی افریقہ سے جرمنی آنے والی تمام پروازوں کے فرینکفرٹ، برلن اور دیگر ایئرپورٹس پر اضافی فوری ٹیسٹ کیے جارہے ہیں تاکہ کورونا سے متاثر افراد کو قرنطینہ میں‌رکھا جاسکے.

واضح رہے کہ یہ کورونا کی ایک ایسی قسم ہے جس کی وجہ سے جرمنی میں اب کورونا سے بچاؤ کی ویکسین کیلئے ہرفرد کیلئے لازم قرار دینے کا امکان بڑچکا ہے.

دوسری جانب برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کورونا کی نئی قسم اومیکرون کے برطانیہ داخل ہونے کے پیش نظر کورونا کیخلاف پابندیوں کو مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے.جبکہ وائٹ ہاؤس کے چیف میڈیکل آفیسر نے امکان ظاہر کیا ہے کہ کورونا کی نئی قسم امریکا پہلے ہی پہنچ چکی ہے.

جاپان نے غیرجاپانی افراد کے جاپان میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے.جبکہ جی 7 ممالک کے وزراء صحت کا ایک اعلی سطح اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے.