کینیڈا ویکسین عطیہ کرنے میں ناکام، عالمی ادارہ صحت نالاں

کینیڈا نے کورونا کی ویکسین غریب ممالک کو عطیہ کرنے کیلئے 200 ملین خوراک فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا جس میں 50 ملین خوراکیں اپنے معاہدے اور 150 ملین خوراکیں کویکس ویکسین شیئرنگ الائنس میں مالی تعاون کے ذریعہ کی جانی تھیں لیکن کینیڈا نے اب تک صرف ویکسین کی خوراک کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ فراہم کیا ہے۔

COVAX کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک خریدی گئی خوراکوں کے بارے میں تفصیلات کی اطلاع نہیں دے سکتا کیونکہ وہ اب بھی ویکسین بنانے والوں کے ساتھ قیمتوں پر بات چیت کر رہا ہےجبکہ کینیڈا کا وعدہ تھا کہ تمام خوراکیں اور نقد عطیات 2022 کے آخر تک کویکس یا غریب ممالک کو فراہم کردی جائیں گی لیکن ناقدین بشمول ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئسس نے دسمبر کے آخر کہا تھا کہ کینیڈا جیسے ممالک غریب ممالک کی قیمت پر ویکسین جمع کر رہے ہیں اور عدم مساوات کو ہوا دے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحت کی عدم مساوات کا خاتمہ وبائی مرض کے خاتمے کی کلید ہے۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے سال کے آخر میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ کینیڈا اپنے حصہ سے بڑھ کر ویکسین عطیہ کررہا ہے اور جیسا کہ لوگ جانتے ہیں کہ کینیڈا میں ویکسین کی پیداوار کی صلاحیت نہیں تو اس لیے ہم براہ راست اکیلے آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک معاہدے کی بات ہے ہم نے بہت سے ممالک میں ویکسین خرید کر بھیجے اور وہاں کے لوگوں کو بچایا۔

ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کینیڈا کے ایک میڈیکل پالیسی اور وکالت کے افسر ایڈم ہیوسٹن نے کہا کہ جب مالیاتی عطیات کی بات آتی ہے تو کینیڈا اپنا وزن کم کرلیتا ہے لیکن ویکسین کے عطیات کے بارے میں ایسا نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا کو کمپنیوں پر ویکسین عطیہ کرنے کیلئے خوراک کی فراہمی کیلئے اسی طرح کا دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے جیسا کہ اس نے پچھلے سال کینیڈا میں ترسیل کو تیز کرنے کے لیے کیا تھا۔

ڈبلیو ایچ او کا ہدف 31 دسمبر تک ہر ملک کی 40 فیصد آبادی کو ویکسین کرنا تھا، لیکن 90 سے زیادہ ممالک اس ہدف سے محروم رہے۔ کم از کم 36 ممالک کو 10 فیصد تک ویکسین نہیں پہنچ سکی۔ عالمی ادارہ برائے صحت نے نیا ہدف جولائی تک 70 فیصد رکھا ہے اور امید ہے کہ سپلائی کے بحران کو کم کرنے کے لیے 2022 میں مزید خوراکیں دستیاب ہوں گی، جبکہ مزید ویکسین منظوری کے لیے تیار ہیں.