بیجنگ اولمپکس 2022، امریکا، برطانیہ، آسڑیلیا، نیوزی لینڈ کا بائیکاٹ

امریکا کے بعد برطانیہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے بھی آئندہ برس چین کے دارالحکومت بیجنگ میں‌منعقد ہونے والے 2022 ء کے سرمائی اولمپکس کے سفارتی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے صحافیوں کو دی جانے والی پریس بریفنگ کے دوران ایک بیان میں کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن انتظامیہ سرمائی اولمپکس اور پیرالمپکس میں‌شرکت کیلئے سفارتی اور سرکاری نمائندوں کو بیجنگ نہیں بھیجے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کی وجہ چین کی جانب سے سنکیانگ میں جاری نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے علاوہ دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں۔

واضح رہے کہ امریکاکی جانب سے سرمائی اولمپکس کے سفارتی بائیکاٹ کا مطلب ہے کہ ان اولمپکس کے دوران امریکی عہدیدار اولمپکس تقریبات کا حصہ نہیں ہونگے البتہ امریکی ایتھلیٹس کی ٹیم ان اولمپکس میں شرکت کرے گی۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے کہا کہ امریکی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو ہماری مکمل حمایت حاصل ہو گی اور ہم ملک میں رہ کر ان کی حمایت کریں گے۔

یاد رہے کہ سرمائی اولمپکس اگلے برس فروری کی چار سے 20 تاریخ کو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں منعقد ہو رہے ہیں۔ رواں برس ٹوکیو میں منعقد ہونے والے اولمپکس کے دوران زیادہ تر خالی اسٹیڈیم دیکھنے میں آئے تھے ،تاہم بیجنگ میں منعقد ہونے والے سرمائی اولمپکس کے دوران چین سے تعلق رکھنے والے تماشائیوں کو داخلے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب چین کی حکومتی ترجمان نے امریکی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے اولمپک قوانین کے وقار کو مجروح کرنے کی سازش قرار دیا۔ ترجمان نے کہا کہ امریکا کے فیصلے سے بیجنگ ء 2022 سرمائی اولمپکس پر کسی قسم کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

چین نے موقف اختیار کیا ہے کہ امریکا کو اس اقدام کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی.

یاد رہے کہ اس سے قبل امریکاکی جانب سے 1980 ء میں ماسکو کے موسمِ گرما کے اولمپکس کا بھی سفارتی بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا تھا۔