کورونا وبا کے باوجود ہتھیاروں‌کی ریکارڈ خریدوفروخت

دنیا میں عالمی وبا کورونا وائرس کے باوجود عالمی سطح پر ہتھیاروں کی ریکارڈ خریدوفروخت ہوئی.

ہتھیار سازی پر نظر رکھنے والے ادارے سوئٹزرلینڈ کے ادارے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ،اسپری کی رپورٹ کے مطابق2020 ء کے دوران کورونا وبا نے عالمی معیشت کو شدید متاثر کیا لیکن ہتھیاروں کی فروخت میں رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی۔ ہتھیار سازی کی 100بڑی کمپنیوں نے 531ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا۔

تھنک ٹینک اسپری کی محقق الیگزانڈرا مارکشٹائنر کا کہنا ہے کہ 2020 ء کورونا وبا کا پہلا مکمل سال تھا اور اس میں سب سے حیران کن بات یہ دیکھی گئی کہ عالمی معیشت کی شرح میں 3.1 فیصد سکڑاؤ پیدا ہوا لیکن اسلحہ اور ہتھیاروں کے کاروبار کو وبا کے دور میں بھی فروغ حاصل ہوا۔

مارکشٹائنر کے مطابق اس شعبے میں 3عشاریہ ایک فیصد کی وسعت پیدا ہوئی۔ گزشتہ سال میں 100بڑی اسلحہ بیچنے والی کمپنیوں نے مجموعی طور پر 531ارب ڈالر کے ہتھیار بنائے اور فروخت کیے۔ یہ مالیت بلجیم کی اقتصادی پیداوار سے بھی زیادہ بنتی ہے۔

یہ خبر انگریزی اور جرمن زبان میں‌پڑھیے.

اسپری کی رپورٹ کے مطابق ان اسلحہ ساز کمپنیوں میں 41فیصد کا تعلق امریکا سے ہے۔ امریکا کی بڑی ہتھیار ساز کمپنی لاک ہیڈ سب سے نمایاں ہے، جس نے 58ارب کا اسلحہ تیار کیا اور بیچا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرفہرست 100 میں شامل پانچ چینی کمپنیوں کی مشترکہ ہتھیاروں کی فروخت 2020 میں اندازاً 66 عشاریہ 8 ارب ڈالر تھی، جو 2019 کے مقابلے میں 1.5 فیصد زیادہ ہے۔

برطانیہ کی BAE سسٹمز، چھٹے نمبر پر، تین چینی گروپوں سے بالکل آگے، سب سے اوپر والی یورپی فرم تھی۔

سب سے زیادہ پیداوار کرنے والے ممالک میں سے صرف فرانس اور روس نے گزشتہ سال اپنی فرموں کی فروخت میں کمی دیکھی۔