اسلام اور فلسفہ میں روح کی حقیقت (دوسرا حصہ )

انٹرویو و پیشکش: سید نظام الدین چشتی

مہمان: پروفیسر ڈاکٹر سید اسلم

حضرت عبداللہ (ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم راہ مدینہ کے کھنڈروں میں چل رہا تھا اور آپ کھجور کی ایک چھڑی کو زمین پر ٹکا کر چلتے تھے کہ یہود کے کچھ لوگوں پر آپ گزرے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ سے روح کی بابت سوال کرو، اس پر بعض نے کہا کہ نہ پوچھو، مبادا اس میں کوئی ایسی بات نہ کہہ دیں جو تم کو بری معلوم ہو ،پھر ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ ہم ضرور آپ سے پوچھیں گے، چنانچہ ان میں سے ایک شخص کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ اے ابوالقاسم! روح کیا چیز ہے؟ آپ نے سکوت فرمایا (ابن مسعود کہتے ہیں) میں نے اپنے دل میں کہا کہ آپ پر وحی آرہی ہے، لہذا میں کھڑا ہو گیا، پھر جب وہ حالت آپ سے دور ہوئی، تو آپ نے فرمایا: (ترجمہ) اے نبی یہ لوگ تم سے روح کی بابت سوال کرتے ہیں، کہہ دو کہ روح میرے پرودگار کے حکم سے (پیدا ہوئی) ہے اور اس کی اصل حقیقت تم نہیں جان سکتے؛ کیوں کہ تمہیں کم ہی علم دیا گیا ہے۔

بعد کے زمانے میں فلا سفر ،عقل دانوں اور سا ئنس دا نوں نے ا پنی علمی بسا ط کے مطا بق ‘رو ح’ کے بارے میں اظہا رِ خیال کیا اور روح پر مستقل کتا بیں اور ر سا ئل لکھے گئے ۔

دین اسلام، قرآن پاک اور فلسفہ یونانی میں روح کے سفر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر سید اسلام نے کہا کہ جیسا کہ پہلے حصہ میں بتایا گیا ہے کہ روح کا تعلق اللہ تبار ک وتعالی کی ذات سے ہے اور روح کو قرآن میں نفس کا نام دیا گیا ہے۔ ترجمہ: “ہرنفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔”یہ نفس دراصل اس کی ابتداء ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا اس ذات سے رابطہ یا تعلق ہے جو اسے اللہ تعالی سے جوڑے رکھتا ہے۔

فلسفہ میں اس کو جذبات سے تشبیہہ دی گئی ہے۔یہ جذبات خوشی اور غم میں الگ الگ ظاہر ہوتے ہیں اور جب خوشی یا غم میں انسان اخلاقیات کا درس ترک کردیتا ہے تو انسان کا روح سے تعلق ختم ہوجاتا ہے۔ پھر انسان اپنے جسمانی اعداد کو سمجھتا ہے اور یہ انسان کی جبلت پر حاوی ہوجاتی ہیں۔ اسی لیے انسان کو جذبات کی حد پر اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے تاکہ انسان کا روح کے ساتھ تعلق برقرار رہے۔اس لیے کہ انسان کے پاس روح امانت ہیں اوریہ کسی وقت بھی واپس لی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب انسان اخلاقیات کا درس رکھتے ہوئے روح سے تعلق قائم رکھ لیتا ہے تو دراصل انسان اس ذات سے تعلق قائم کرلیتا ہے جس کی روح ملکیت ہے۔ انسان اس رابطے کے بعد خود کو پرسکون اور خوش تصور کرتا ہے ۔ دراصل یہ سکون روح کی تسکین ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر سید اسلم نے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ( حضرت ابراہیم علیہ السلام سردی کے موسم میں الصبح ایک خواب دیکھتے ہیں کہ ایک فرشتہ کے ہاتھوں میں کئی صفحات ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ معلوم کرتے ہیں یہ کیا ہیں۔ جس پر فرشتہ جواب دیتا ہے کہ ان صفحات میں ان لوگوں کے نام ہیں جو اللہ تبارک و تعالی سے محبت کرتے ہیں۔

حضرت ابراہیم ؑ ڈرتے ہوئے فرشتہ سے معلوم کرتے ہیں کہ کیا اس میں میرا نام ہے۔ فرشتہ انکاری میں جواب دیتا ہے۔ جس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بڑی طبعیت خراب ہوتی ہے ۔ تھوڑی دیر بعد نماز کا وقت ہوتا ہے اور نماز کی ادائیگی کیلئے گھر سے باہر نکلتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ایک بلی کا چھوٹا سے بچہ سردی سے ٹھٹھر رہا ہے۔ابراہیم ؑ اس بلی کے بچے کو اٹھاتے ہیں اور لاکر اپنے لحاف میں رکھ دیتے ہیں۔

ابراہیم ؑ کو اس کے بعد ایک اور خواب نظر آتا ہے اور ایک بار پھر فرشتہ نظر آتا ہے جس میں وہی دیکھتے ہیں کہ ایک لمبی فہرست فرشتہ کے ہاتھ میں موجود ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام فرشتہ سے دریافت کرتے ہیں کہ یہ کس چیز کی فہرست ہے جس پر فرشتہ جواب دیتا ہے کہ یہ وہ فہرست ان لوگوں کی ہے جن سے اللہ تبارک وتعالی محبت کرتا ہے۔

یہ سننے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام سوچتے ہیں جب پہلی فہرست میں میرا نام نہیں تو اس میں کہاں میرا نام ہوگا۔ لیکن پھر بھی ڈرتے ڈرتے حضرت ابراہیم علیہ السلام فرشتہ سے پوچھتے ہیں کہ کیا اس میں میرا نام ہے؟۔ جس پر فرشتہ جواب دیتا ہے کہ جی بلکل آپ کا نام اس فہرست میں ہے اور سب اوپر آپ کا نام ہے۔کیونکہ تمہارا اللہ تعالی سے تعلق بغیر کسی توقعات اور وجہ کے قائم رہتا ہے۔ تمہاری عبادات میں میں کوئی دکھاوا نہیں۔ تمہاری عبادات پاک ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر سید اسلم نے کہا کہ انسان کا حکمران انسان کے اندر موجود ہے اور ہمارے صوفیا کرام نے اس چیز کا مشاہدہ کیا ہے۔انسان اگر جسمانی لذتوں کو ترک کرے گا تو روح کو تسکین ملے گی۔دوسری جانب انسان کی جانب سے اس کا توازن خراب کرنے کے باعث روح کا تعلق اس ذات سے کمزور ہونے لگتا ہے جس کے باعث انسان کو بے سکونی کی کیفیت ہوتی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر سید اسلم نے کہا کہ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے کہ انسان جب سوتا ہے تو اس کی روح قبض کرلی جاتی ہے اور نیند سے بیدار ہونے سے قبل روح اس کے جسم میں واپس داخل کردی جاتی ہے۔ یہ جو مثال نیند کی اللہ تعالی نے روح اور جسم کے تعلق سے دی ہے یہ اتنی متاثر کن ہے کہ اگر ہم اسے سمجھنا چاہئیں۔ کیونکہ کئی لوگ سوتے ہوئے نہیں اٹھتےاور کئی لوگ اٹھ جاتے ہیں اور کئی لوگ فجر کی عین نماز کے وقت اٹھتے ہیں۔ یہ سب اشارے روح کی اس اعلی ذات سے وابستگی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

ایک یہ نیند ہے جو ہم لیتے ہیں اور صبح اٹھ کر نئے دن کا آغاز کرتے ہیں اور ایک وہ نیند ہے جب ہم اصل میں جاگیں گے۔ حضرت علی ؑ کا قول ہے۔” انسان جب زندہ ہوتا ہے تو مردہ ہوتا ہے اور جب مرتا ہے تو اصل میں زندہ ہوتا ہے”۔دراصل موت کی ہچکی انسان کو بیدار کرنے کیلئے ہے۔ یہ بیداری دارصل اس روح کے تعلق کی ہوتی ہے جو روح کو واپسی کا اشارہ دیتی ہے۔ یعنی کے اختتام کی طرف نہیں بلکہ واپسی اپنی منزل کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری رائے میں روح اور جسم کا تعلق سمجھانے والوں میں دو گروپ ہیں۔ ایک ابن سینا گروپ اور دوسرا ابن رشد کا گروپ ہے۔ دونوں نے اپنے اپنے انداز سے اس کو دیکھا اور جائزہ پیش کیا ہے۔ایک نے اس کو عقل اور منتق کے ترازو پر رکھ کر دیکھا ہے اور دوسرے نے احساسات، جذبات اور ایک لافانی ہستی کی روشنی میں دیکھا ہے ۔ جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی طبقہ اس کائنات کو سمجھنے کیلئے سائنسدانوں سے قریب تر ہےتو وہ فلاسفر سے زیادہ صوفیا کرام ہیں۔ان کی رسائی اور احساسات وہاں تک گئے ہیں جہاں عقل بعد میں پہنچی ہے۔ انسان کا رنگ، شکل اور زبان مختلف ہوسکتی ہیں لیکن جب اس انسان کو ایک اعلی ترین جائزے کے طور پر دیکھیں گے تو ایک نور ہی نظر آئے گا اور وہ نور اس اعلی ترین ہستی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

ابن العربیؒ کے روح سے متعلق بیان اور کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر سید اسلم نے کہا کہ ابن العربی کی اس حوالے سے دو کتابیں سب سے زیادہ مشہور ہوئی ہیں۔ ایک ‘فسوس الہسم’ اور دوسری ‘فتوحات مکیہ’ ہے۔باقی ایک دیوان ان کی شعری مجموعہ پر ہے۔ جبکہ ایک اور کتاب ہے جس کا نام ہے۔ “ترجمان الاشفاق “ابن العربی نے اس کتاب میں عشق کی وہ منزلیں بیان کی ہیں جو انسان اس عظیم اور اعلی ترین ہستی کی طرف رخ کرنے کیلئے اپنا آپ کو جھنجوڑتا ہے۔ان العربی نے روح کی حقیقت مختلف تاریخی نظریات کی بنیاد پر بیان کی ہے۔

اس حوالے سے مولانا روم نے بھی دو باتیں بہت اہم کی ہیں ۔ آثار قلم اور آثار قدم۔ آثار قلم پڑھے لکھے ، تعلیم یافتہ یا دانشور لوگ کرتے ہیں لیکن آثار قدم وہ چھوڑتے ہیں جن کی ہرشخص کو جستجو ہوتی ہے کہ وہ ان کے قدموں پر چلیں۔جیسے مسلمان سورہ فاتحہ پر دعا مانگتے ہیں کہ ‘مجھے ان کے راستے پر چلاجس پر تو نے اپنی نعمتیں مکمل کی ہیں’ ۔

پروفیسر ڈاکٹر سید اسلم نے کہا کہ انسان کو روح اور جسم کی اہمیت کو سمجھنے اور جاننے کیلئے ان آثار قدم کو اپنا نا ہوگا تاکہ وہ اپنی منزل کو پاسکیں۔

انٹرویو کی ویڈیوکا دوسرا حصہ

YouTube player