قدرتی حسن سے مالا مال ،گلگت بلتستان

گلگت بلتستان پاکستان کا شمالی علاقہ ہے۔ تاریخی طور پر یہ تین ریاستوں پر مشتمل تھا. حکومت پاکستان نے 1974 میں گلگت بلتستان میں اسٹیٹ سبجیکٹ رول کو ختم کر دیا ، جس کے نتیجے میں اس علاقے میں آبادیاتی تبدیلیاں ہوئیں.یہ پاکستان کا واحد خطہ ہے جس کی سرحدیں تین ملکوں سے ملتی ہیں.

شمالی علاقہ جات کی آبادی 11لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جبکہ اس کا کل رقبہ 72971مربع کلومیٹر ہے ‘ اردو کے علاوہ بلتی اور شینا یہاں کی مشہور زبانیں ہیں۔ گلگت و بلتستان کا نیا مجوزہ صوبہ دوڈویژنز بلتستان اور گلگت پر مشتمل ہے۔ اول الذکر ڈویژن سکردو اور گانچے کے اضلاع پر مشتمل ہے جب کہ گلگت ڈویژن گلگت،غذر،دیا میر، استور اورہنزہ نگر کے اضلاع پر مشتمل ہے۔ شمالی علاقہ جات کے شمال مغرب میں افغانستان کی واخان کی پٹی ہے جو پاکستان کو تاجکستان سے الگ کرتی ہے جب کہ شمال مشرق میں چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ کا ایغورکا علاقہ ہے۔ جنوب مشرق میں مقبوضہ کشمیر، جنوب میں آزاد کشمیر جبکہ مغرب میں صوبہ خیبر پختونخوا واقع ہیں۔ اس خطے میں سات ہزار میٹر سے بلند 50 چوٹیاں واقع ہیں۔ دنیا کے تین بلند ترین اور دشوار گزار پہاڑی سلسلے قراقرم،ہمالیہ اور ہندوکش یہاں آکر ملتے ہیں۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو بھی اسی خطے میں واقع ہے۔ جب کہ دنیا کے تین سب سے بڑے گلیشئیر بھی اسی خطے میں واقع ہیں

گلگت و بلتستان اب دس اضلاع پر مشتمل ہے جن میں سے چار بلتستان میں، چار گلگت اور دو ہنزہ۔ نگر کے اضلاع ہیں۔ اس سے پہلے ہنزہ۔ نگر کو بھی گلگت ڈویژن میں شمار کیا جاتا تھا جسے اب علیحدہ کر دیا گیا ہے

ضلع گانچھے

سنگلاخ نوکیلے پہاڑوں، بہتے نیلگوں پانیوں، بلندی سے گرتی آبشاروں کی یہ سرزمین قدرتی و انسانی حسن سے مالا مال ہے۔ گانچھے کا صدر مقام خپلو اپنے نام کی طرح خوبصورت ہے۔

دریائے شیوک کے کنارے بسی یہ آبادی آج بھی اتنی ہی سادہ و خالص ہے جتنی صدیوں پہلے تھی، جب یارقند سے سالتورو کے راستے پہاڑوں کو عبور کرتا انسان ہجرت کر کے اس خطے میں وارد ہوا۔ضلع گانچھے پاکستان کے صوبہ گلگت بلتستان کا ایک ضلع ہے۔

پاکستان آرمی کا بریگیڈ ہیڈ کوارٹر گوما ، گھانا ضلع میں واقع ہے۔ پاکستان آرمی کا گیاری سیکٹر بٹالین ہیڈ کوارٹر سیاچن گلیشیر سے 20 میل مغرب میں واقع ہے۔

ضلع سکردو

سکردو گلگت بلتستان کا ایک اہم شہر اور ضلع ہے۔ سکردو شہر سلسلہ قراقرم کے پہاڑوں میں گھرا ہوا ایک خوبصورت شہر ہے۔ سکردو گلگت بلتستان کا دار الحکومت بھی ہے۔ یہاں کے خوبصورت مقامات میں شنگریلا، سدپارہ جھیل اور کت پناہ جھیل وغیرہ شامل ہیں۔

ہر سال لاکھوں ملکی وغیر ملکی سیاح سکردو کا رخ کرتے ہیں۔ سکردو میں بسنے والے لوگ بلتی زبان بولتے ہیں جو تبتی زبان کی ایک شاخ ہے۔ جبکہ سکردو کے لوگ انتہائی ملنسار، خوش مزاج، پر امن اور مہمان نواز ہیں۔

سکردو بلتستان کا سب سے بڑا شہر ہے جس کی آبادی تقریباً اڑھائی لاکھ قریب ہے سکردو شہر بلتستان کاتجارتی مرکزہونے کے ساتھ ساتھ صحت تعلیم اور سیاسی و سماجی سرگرمیوں کا مرکز بھی ہے سکردو ہی بلتستان کو گلگت بلتستان اور ملک کے دیگر شہروں کی جانب رفت و آمد کا ذریعہ بھی ہے جہاں بلتستان کا واحد کمرشل ائیرپورٹ اور بسوں کا اڈا بھی موجود ہے سکردو شہر سے ہو کر ہی دنیا کے بلند قدرتی پارک دیوسائی اور استور جایا جاسکتا ہے،سکردو گلگت بلتستان کا ایک انتہائی خوبصورت شہر ہے جہاں شدید سردی پڑتی ہے.

شگر

شگرپاکستان کے شمالی علاقہ جات بلتستان میں واقع ایک نہایت وسیع اور خوبصورت وادی ہے۔یہ بلتستان ڈویژن کے کسی بھی ضلع سے آبادی اور رقبہ دونوں لحاظ سے بڑا علاقہ ہے۔

شگر خاص دریائے باشہ اور دریائے برالدو کا سنگم ہے. وادی شگرکے خوبصورت اور دلکش قدرتی مناظر ،بلندپہاڑی چوٹیاں ،لہلہا تے کھیت ،ٹھنڈی چشمے اور آبشاریں ،ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے اپنے اندر ایک منفرد کشش رکھتی ہے ۔

اس وادی کی سرحدیں مشرق میں خپلو ، مغرب میں نگر گلگت اور جنوب کی وادی سکردو سے ملتی ہیں۔شمالی طرف دنیا کی دوسری بلندترین چوٹی کے ٹو اور کوہ قراقرم کی دیگر پہاڑی چوٹیاں اور گلیشرزہیں۔جن کو سر کرنے کی کوشش میں لاتعداد کوہ پیما اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

وادی شگر کے مہمان نواز، بہادر اور جفا کش لوگوں کا پیشہ کھیتی باڑی،اور مویشی پالنا ہے بہت کم لوگ ملازمت پیشہ ہیں۔یہ وادی پھلوں اور میووں کے لحاظ سے بہت مشہور ہیں۔ان میں خوبا نی ،بادام، سیب، ناشپاتی، انگور، آلوبخارا، گلاس، شہتوت، اخروٹ اور دوسری پھلیں شامل ہیں۔وادی کے پہاڑوں میں قدرت کا پیش بہا اور قیمتی خزا نہ پوشیدہ ہیں۔

جاری ہے

پیشکش:بشریٰ فاطمہ