موئن جو دڑو کی صد سالہ تقریبات عالمی سطح پر منعقد کرنیکا فیصلہ

سندھ حکومت نے آئندہ برس موئن جو دڑو کی کھدائی کی سو ¿ سالہ تقریبات ملکی اور عالمی سطح پر منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ یونیسکو کے ہیڈکوارٹر پیرس میں بھی ایک عالمی پروگرام کا انعقاد کیا جائے جس سے عالمی برادری کو موہین جو دڑو کے بارے میں آگاہی مل سکے۔

یہ بات صوبائی وزیر ثقافت سردار شاہ نے یونیسکو کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا. وفد میں یونیسکو کی کنٹری ڈائریکٹر پیٹریشیا مکفلپس, کلچر پروجیکٹ آفیسر مریم سلیم فاروقی اور ایجوکیشن پروجیکٹ آفیسر سمیر لقمان قریشی شامل تھے. جبکہ موھین جو دڑو کی ٹیکنیکل کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری, اور ممبر سکندر ھلیو بھی اس موقع پر موجود تھے.

وزیر تعلیم و ثقافت سید سردار علی شاہ نے کہا کہ پیرس میں صدسالہ تقریبات میں عالمی برادری کا نہ صرف شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے 1974 میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے منعقد کردہ “سیو موھین جو دڑو” سیمینار میں ہمارا ساتھ دیا جس کی وجہ سے 1978 میں موھین جو دڑو کو عالمی ورثے میں شامل کیا گیا بلکہ ہم موھین جو دڑو کی کھدائی کو سو برس مکمل ہونے پر عالمی برادری اور یونیسکو کی توجہ بھی مبذول کرانا چاہتے ہیں کیونکہ موھین جو دڑو صرف ہمارا نہیں بلکہ پوری دنیا کا مشترکہ ورثہ ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ محکمے کی کوشش ہے کہ عالمی ورثے میں سندھی اجرک کا ڈزائن, شاہ جو رسالو اور موھین جو دڑو سے دریافت کردہ قدیم آلہ موسیقی “بوڑینڈو” کو عالمی ورثے میں شامل کیا جائے جس کے لیے جلد ہی محکمہ مطلوبہ ڈاکیومینٹس ترتیب دے گا.

اس موقع پر یونیسکو کی کنٹری ڈائریکٹر پیٹریشیا مکفلپس نے محکمے کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ انہوں نے حال ہی میں موھین جو دڑو اور مکلی کا دورہ کیا اور انہوں نے موھین جو دڑو جیسی صاف ستھری آثار قدیم کی سائیٹ پورے پاکستان میں نہیں دیکھی. انہوں نے مکلی میں محکمے کی طرف سے کیے گئے بحالی کے اقدامات کو سراہا.

انہوں نے مزید کہا کہ یونیسکو سندھ میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ملالہ فاو ¿نڈیشن کے ساتھ ملکر کام کرنا چاہتا ہے اور اس حوالے سے انہوں نے سلام کوٹ, مٹھی اور تھرپارکر کے کچھ دیگر علاقوں کا دورہ بھی کیا ہے. انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے انہوں نے طلبہ کی سہولت کے لیے کچھ کتب بھی شایع کی ہیں اور اس سلسلے میں وہ سندھ کے محکمہ تعلیم کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں. م

لاقات کے اختتام پر وزیر تعلیم و ثقافت سید سردار علی شاہ نے مہمانوں کو سندھی اجرک کا تحفہ دیا اور محکمہ ثقافت کی طرف سے شائع کردہ کتب بھی پیش کیں.