سندھ کےسیاحتی مقامات پر قائم ریسٹ ہاؤسز کی آن لائن بکنگ کی جا سکتی ہے، سید سردار علی شاہ

وزیر ثقافت, سیاحت و نوادرات سید سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے سیاحت کو اولین ترجیح دینے کے خالی بیانات تو دیے تھے لیکن وفاقی حکومت نے سندھ کی سیاحت کے لیے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا.

عالمی یوم سیاحت کے موقع پر سندھ کے محکمہ سیاحت کی جانب سے تین روزہ سیاحتی فوٹوگرافی کی نمائش و مقابلے کا اہتمام کیا گیا, جس میں شرکاء کو بہترین فوٹوگرافی اور وڈیوگرافی پر نقد انعامات سے نوازا گیا. لیاقت میموریل لائبرری کراچی میں محکمہ ثقافت سندھ کی پہلی سرکاری آرٹ گیلیری “سمبارا” میں جاری ایگزیبیشن کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر ثقافت سید سردار علی شاہ نے کہا کہ یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ نوجوان ہمارے صوبے کی سیاحت کو پروموٹ کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹفارمز پر نوجوان اپنے کیمرائوں سے کمال کی فوٹوگرافی کرکے سندھ کی خوبصورتی کو دنیا بھر میں شیئر کر رہے ہیں آج انہی کی پذیرائی کے لیے اس نمائش میں انکی تصاویر پیش کی گئیں ہیں.اس موقع پر سندھ کے وزیر برائے ورکس اینڈ سروسز سید ضیاء عباس شاہ بھی ان کے ہمراہ تھے.

وزیر ثقافت سید سردار علی شاہ نے کہا کہ ملکی آبادی کا 64 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ان کی شرکت کے بغیر ملک کا کوئی شعبہ ترقی نہیں کر سکتا.انہوں نے کہا کہ کووڈ کی وجہ سے سیاحتی شعبے کو بہت نقصان اٹھانا پڑا لیکن اب ویکسینیشن کے بعد ہم مختلف اقسام کے پروگرامز و مقابلے منعقد کررہے ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ سیاحت دنیا کی سب سے بڑی عیاشی ہے کیونکہ ہر چیز آپ کو آنلائن مل جائے گی لیکن دنیا کا کوئی بھی سیاحتی منظر آپ کے پاس چل کر نہیں آئے گا اس منظر کو دیکھنے کے لیے آپ کو خود جانا پڑے گا.

سردار علی شاہ نے کہا کہ سندھ کے تمام سیاحتی مقامات پر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے اور اب مزید وفاقی حکومت کی طرف سے بھی سنجیدگی کی ضرورت ہے. وزیراعظم عمران خان صاحب نے سیاحت کو اپنی اولین ترجیح تو بتایا تھا لیکن آج تک سندھ کی سیاحت کے فروغ میں وفاق کی طرف سے ایک روپیہ بھی نہیں دیا گیا.

اس موقع پر سندھ ٹوئرزم ڈولپمنٹ کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر محمد علی کھوسو نے بتایا کہ ایس ٹی ڈی سی کی طرف سے اس سال یوم سیاحت کے موقع پر تین روزہ نمائش کا انعقاد کیا گیا جس میں فوٹوگرافی اور وڈیوگرافی کی چاہت رکھنے والے پروفیشنل اور شوقیہ فوٹوگرافرز کی طرف سے بنائی گئی تصاویر و وڈیوز نمائش کے لیے پیش کی گئیں. انہوں نے مزید بتایا کہ ایس ٹی ڈی سی کو نمائش کے لیے 241 شرکاء نے حصہ لیل ہے جبکہ صرف فوٹوگرافی کی 161 انٹریز موصول ہوئیں, جن میں سے ججز نے 100 تصاویر, اور 37 وڈیوز کو نمائش کے لیے موزون قرار دیا. اس وقت گیلیری میں 74 سیاحتی تصاویر نمائش میں پیش کی گئیں.

دیگر خبریں:پاکستان میں سیاحت کے فروغ کیلئے ٹوارزم مینجمنٹ پروگرام

انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ 40 گرافکس ڈزائنرز نے ایس ٹی ڈی سی کے لوگو ڈزائنگ مقابلے میں حصہ لیا اور اس وقت کل 45 لوگوز نمائش میں پیش کیے گئے, جن میں ججز کے فیصلے کے مطابق بہترین لوگو ڈزائنر کو انعام دیا گیا. انہوں نے بتایا کہ سندھ کی سیاحت, ثقافت و جغرافیائی تصاویر میں سے تین بہترین فوٹوز کو ترتیبوار 50, 35 اور 25 ہزار روپے کیش پرائیس دیے گئے. اس کے علاوہ بہترین وڈیوز بنانے والے شرکاء کو ترتیبوار ایک لاکھ, 75 ہزار اور 50 ہزار روپے کا نقد انعام دیا گیا جبکہ بہترین لوگو ڈزائنر کو 30 ہزار روپے کیش پرائیز دیا گیا.

مزید خبریں:سیاحت کے فروغ کیلئے کراچی ائیرپورٹ پر ڈیسک قائم

وڈیوگرافی میں پہلا انعام منتظر مہدی, دوسرا انعام کریم برولیا جبکہ تیسرا انعام شہباز علی کو دیا گیا. اس کے علاوہ فوٹوگرافی میں پہلا انعام ایس ایم رفیق, دوسرا انعام امجد امداد, تیسرا انعام کامران نوہڑیو کو دیا گیا.