زندگی میں کامیابی کے تین اصول ارسلان منہاس کی نظر میں

انٹرویو :.شارق جاوید

جرمنی وہ ملک ہے جہاں پر یہ تاثر عام ہے کہ مہاجرین مینجمنٹ کے عہدوں پر آسانی سے نہیں پہنچ سکتے لیکن پھر بھی کچھ لوگوں نے اس تاثر کو غلط ثابت کیا۔ انہی چند لوگوں میں کراچی سے تعلق رکھنے والے ارسلان منہاس شامل ہیں جنہوں نے انجینئرنگ کے شعبے میں اپنی تعلیم کراچی سے حاصل کی اور اب جرمنی کے شہر میونخ میں ایک انٹرنیشنل سافٹوئیر ڈویلپمنٹ کمپنی میں ریجنل نائب صدر کے عہدے پر فائز ہیں۔ ان سے میں نے ایک انٹرویو کیا جس میں ان کی نظر میں کامیابی کے تین راز پوچھے۔

مجھے تو ان کے تینوں مشورے بہت پسند آئے میں آپ لوگوں سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ کیا آپ بھی کامیاب زندگی گزارنا چاہتے ہیں؟ تو ارسلان منہاس کی طرف سے تین اہم مشورے اس تحریر میں پڑھیے۔ یہ چند منٹ آپ کی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔

ارسلان منہاس سے میرا تعلق تقریباً ایک دہائی پر مشتمل ہے اور وہ مجھ سے بڑے ہیں تو میں ان کو ہمیشہ ارسلان بھائی کہہ کر پکارتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے تینوں مشورے وہ ہیں جو انہوں نے بھی اپنے بڑوں اور کامیاب لوگوں سے سیکھے۔ اور وہ اس نظریے کے گرد گھومتے ہیں کہ آپ سب کو جاگنا ہے اور اپنی زندگی کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینا ہو گا۔

ان کا “پہلا مشورہ” یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں کوئی بڑا خواب ہونا چاہئے۔ آپ کی زندگی کا ایک مقصد اور وجہ ہونا چاہیے۔ بے مقصد زندگی بھی بھلا کوئی زندگی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ میرے پاس اکثر لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سب سے اہم یہ ہے کہ زندگی گزارنے کا ایک پلان ہو لیکن میں اس سے بالکل اتفاق نہیں کرتا۔ آپ نے یقیناً مشہور مارٹن لوتھر کنگ کا نام سنا ہوگا جو مشہور افریقی نژاد امریکی تھا اور انسانی حقوق کے سرگرم رکن تھے اور اس نے اپنی پوری زندگی اپنے قتل تک انسانیت اور عدل کی ایک زبردست محنت میں گزاری اور آج تک نہیں یاد کیا جاتا ہے۔ آج سے تقریباً پچاس سال پہلے لنکن میموریل کی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر لوگوں سے انہوں عظیم مستقبل کے بارے میں بات کی۔ اس نے لوگوں سے اپنے پلان کے بارے میں بات نہیں کی بلکہ اس نے اپنے خواب کا ذکر کیا۔ انہوں نے لوگوں کو ایک ایسے مستقبل کا خواب دکھایا جس میں سب لوگ رنگ اور نسل کی تفریق کے بغیر برابر ہوں۔

ارسلان منہاس ایک مثال کے ذریعے سمجھانے کے لیے کہتے ہیں کہ میرا خواب ہے کہ انسانیت کی خدمت کر سکوں اور لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا سکوں۔ اور اس خواب کو مکمل کرنے کے لیے میں نے جو راستہ اختیار کیا وہ ہے جدید ٹیکنالوجی میں انویسٹ کرنا۔ مجھ سے مخاطب ہو کر انہوں نے کہا کہ آپ کا خواب بھی یہی ہے لیکن اس تک پہنچنے کا راستہ مختلف ہے، آپ اپنا وقت اور انرجی سوشل ورک اور سیاست میں جا کر اس مقصد کو مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور بہت سارے لوگ ہوں گے جن کا بھی یہی خواب ہوگا لیکن وہ اس خواب کی تکمیل مختلف طریقے سے کریں گے کوئی شاید ڈاکٹر بن کر خدمت کرنا چاہے یا کسی اور طریقے سے۔ اگر اس کو مختصراً کہا جائے تو آپ لوگ اپنی زندگیوں میں ایک خواب سوچیں۔ یقیناً اس خواب کو مکمل کرنے کے لئے آپ کو ایک پلان کو ضرورت ہو گی۔ لیکن پہلے ایک بڑا خواب کا ہونا ضروری ہے۔

کیا آپ کی زندگی میں کوئی خواب ہے؟ کیا آپ کی زندگی میں کوئی بڑا مقصد ہے؟ یا آپ بغیر خواب کے بے مقصد زندگی گزار رہے ہیں؟
پلیز اس پر وقت نکال کر ضرور سوچیے گا۔

آئیے اب دوسرے مشورے کی جانب بڑھتے ہیں۔ ارسلان منہاس کا کہنا ہے کہ ان کی نظر میں لفظ “کامیابی” کا مطلب دو الفاظ ہیں، پہلا فوکس اور دوسرا مستقل مزاجی۔ وہ اس کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں کہ ہماری زندگیوں میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں اسی طرح اگر ہارٹ مشین ای سی جی کا معائنہ کریں تو سیدھی لکیر موت کو ظاہر کرتی ہے یعنی کہ سیدھی لکیر ہماری زندگیوں کا حصہ نہیں بلکہ اتار چڑھاؤ ہماری زندگیوں کا اہم حصہ ہے۔

ہمارے اردگرد اتنی چیزیں ہو رہی ہوتی ہیں کہ بہت آسان ہے دھیان کا بٹ جانا۔ اسی طرح جب آپ کی زندگی میں اتار ہو اور آپ مستقل مزاج نہ رہ سکیں اور دھیان بٹ جائے تو عین ممکن ہے کہ آپ ہمت ہار جائیں۔ یہاں پر میں مثال دینا چاہوں گا تھامس ایڈیسن کی جس نے بجلی کا بلب ایجاد کیا لیکن یہ بالکل آسان کام نہ تھا۔ یہ کامیابی نتیجہ تھی کئی سو ناکام کوششوں کا۔ ایک انٹرویو میں جب تھامس سے پوچھا گیا کہ آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے اتنی بار ناکامی کے بعد۔ ان کا جواب مجھے بہت پسند آیا اور وہ یہ تھا کہ میں ناکام نہیں ہوا بلکہ میں نے سینکڑوں دفعہ سیکھا کہ بلب کیسے ایجاد نہیں کرنا۔ میں ارسلان بھائی کی دلچسپ باتوں سے بہت محظوظ ہو رہا تھا اور دل کر رہا تھا کہ وہ ایسے اچھے قصے سناتے جائیں۔ ہر ناکامی سے ایڈیسن کو کو نئے آئیڈیاز آتے رہے کہ اب کیا مزید مختلف کیا جا سکتا ہے۔ ارسلان بھائی نے مزید کہا تو کہ مشورہ یہ ہے کہ اپنی ناکامیوں پر توجہ دیں اور ان سے سیکھیں۔ یہاں پر انہوں نے اپنے دوسرے مشورے کو پہلے مشورے سے جوڑتے ہوئے کہا کہ آپ کا ایک خواب ہونا چاہئے اور اس کی تکمیل کیلئے ایک پلان ہونا چاہیے اور اس کے بعد آپ کو فوکس اور مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

بہت اچھے طریقے سے دونوں مشورے سننے اور سمجھنے کے بعد بالکل ایک چھوٹے بچے کی طرح میں نے ارسلان بھائی سے تیسرے مشورے کی فرمائش کی۔

ارسلان بھائی نے مختصر جملے میں کہہ دیا کہ اپنے آپ میں انویسٹ کریں۔ یعنی کہ پہلے دونوں مشوروں کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے آپ کے پاس ضروری قابلیت ہونی چاہیے اور وہ قابلیت سیکھنے اور محنت کرنے سے ہی آئے گی۔ یہاں پر انسان کو اپنے آپ میں انویسٹمنٹ کرنا بہت ضروری ہے۔ یہاں انہوں نے مزید کہا کہ ان کا پختہ یقین ہے کہ ہر انسان کو اپنے اندر “سافٹ سکل” پیدا کرنے یعنی پرسنیلٹی ڈویلپمنٹ پر توجہ دینا ہو گی۔ ہم میں سے اکثر لوگ سکول کالج اور یونیورسٹی جاتے ہیں اور وہاں پر ٹیکنیکل نالج حاصل کرتے ہیں لیکن ایک چیز جو اکثر ہم سے رہ جاتی ہے یا جسے ہم نہیں سمجھتے وہ ہے پرسنیلٹی ڈویلپمنٹ۔

ارسلان بھائی نے مزید کہا کہ اچھی ڈگری یا اچھے مارکس انسان کو مدد دے سکتی ہیں اچھی ملازمت کے حصول کے لیے یا اچھا کاروبار شروع کرنے کے لئے لیکن ملازمت میں مینجمنٹ لیول تک پہنچنے یا بزنس میں ترقی کے لئے آپ کو سافٹ سکل کی اشد ضرورت ہے۔ اس کو مزید وہ ایسے سمجھاتے ہیں کہ انسانی سائیکالوجی کو سمجھنا سب سے اہم جز ہے ٹاپ مینجمنٹ پوزیشن کے لیے اور سیاست کے لئے بھی۔ جب بھی انسان کسی لیڈرشپ رول میں ہوتا ہے تو یہ بہت اہم ہے کہ وہ لڑائی جھگڑا کیسے حل کرتا ہے، لوگوں سے کیسے موثر طریقے سے چیزیں منوا سکتا ہے۔ اگر آپ نے کوئی چیز بیچنی ہو تو آپ کی لوگوں سے بات چیت کا طریقہ بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات میں اپنی پرسنل تجربے سے بھی شیئر کر رہا ہوں کہ اسکول کالج اور یونیورسٹی میں ہم نے اچھے مارکس لینا تو سیکھا لیکن یہ چیزیں نہیں سیکھیں۔

اس کے ساتھ ہی ارسلان بھائی نے میرا امتحان لینے کے لیے اپنی میز پر رکھے کافی کے کپ کو ہاتھ میں اٹھایا اور مجھ سے پوچھا کہ اگر میں پوچھوں کہ یہ کافی کا کپ زیادہ اہم ہے یا اس میں گرم کافی۔ میں گھبرا گیا اور دل میں سوچا کہ یقیناً کافی ہی اہم ہے لیکن ان کے لہجے نے مجھے شک میں دال دیا کہ یقیناً کوئی گہری بات ہو گی تو میں نے ڈرتے ہوئے کہہ دیا کہ کپ اہم ہے جس پر انہوں نے مسکراتے ہوئے داد دی اور کہا کہ 98 فیصد لوگ یہ کہتے ہیں کہ کپ کے اندر کافی اہم ہے جو کہ غلط ہے۔

میرے لہجے کے سوالیہ نشان کو دیکھتے ہوئے ایک اور سوال کر ڈالا کہ اگر کافی کا پیالے میں سوراخ ہو تو میں کیا کروں گا؟ اس کا جواب آسان تھا کہ یقیناً پھر کافی نہیں پی سکوں گا کیوں کہ وہ لیگ ہو رہی ہوگی۔ یعنی کہ کافی، کپ کے بغیر کوئی معنی نہیں رکھتی۔ کافی کی مثال کانٹینٹ جیسا کہ ٹیکنالوجی یا دوائی کی ہے لیکن کپ ہمارے متن ہے یعنی کس طرح سے اس کو لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ تو مختصراً پرسنیلٹی ڈویلپمنٹ پر توجہ دیں۔
کیا آپ اپنی پرسنیلٹی ڈویلپمنٹ پر توجہ دیتے ہیں؟

امید ہے کہ آپ کو یہ آرٹیکل اور ارسلان بھائی کے مشورے پسند آئے ہوں گے۔ پلیز اپنا فیڈبیک ضرور دیجئے گا۔