کورونا کیخلاف فائزر کی دوا تیار،90 فیصد موثر ہونے کا دعویٰ

کورونا وائرس کے خلاف سب سے پہلے ویکسین تیار کرنے والی کمپنی فائزر نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ان کی تیار کردہ کورونا سے بچاو کی اینٹی وائرل دوا مریضوں کے اسپتال میں داخلے کی شرح اور موت کے خدشے کو 90 فیصد تک کم کر سکتی ہے.

فائزر نے کہا ہے ان کی دوا استعمال کیلئے تیار ہے اور اسکے تجرباتی مراحل میں حاصل کیے گئے نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگس ایسوسی ایشن کو جلد دوا کی منظوری کے لیے کہا جائے گا۔

فائزر نے 775 بالغوں پر اپنی دوا کے استعمال سے متعلق ابتدائی نتائج جاری کیے ہیں۔ ان افراد کو بیماری کی علامات ظاہر ہونے کے فوراً بعد ایک اور اینٹی وائرل کے ساتھ یہ دوا دی گئی تھی۔

ایک مہینے کے بعد مرتب کیے جانے والے نتائج کے مطابق اس کے استعمال سے مرض کی علامتوں اور اسپتال جانے کی شرح میں 89 فی صد کمی ہوئی اور اس دوران کوئی مریض ہلاک نہیں ہوا۔

فائزر کے چیف سائنٹیفک آفیسر ڈاکٹر میکیل ڈولس ٹن نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ یہ ایک غیر معمولی دوا ہے۔ اس کی افادیت تقریباً 90 فی صد ہے اور یہ موت سے 100 فی صد تحفظ فراہم کرتی ہے۔

یہ خبر انگریزی میں پڑھیے.

دوسری جانب ایک اور دوا ساز کمپنی میرک نے سب سے پہلے کورونا کے علاج کے لیے گولیاں تیار کی ہیں۔ جس کے نتائج بہتر رہے ہیں۔ امریکہ کا فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کا ادارہ اس دوا کی منظوری سے پہلے اس کا جائزہ لے رہا ہے جب کہ جمعرات کے روز برطانیہ نے اسے استعمال کے لیے منظور کر لیا ہے۔

یہ خبر بھی انگریزی میں پڑھیے.

ماہرین نے کورونا وائرس کے علاج کے لیے گولیوں اور کیپسول کی شکل میں دوا کی تیاری کو اہم پیشرفت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دوا سے کورونا کے علاج میں بڑی پیشرفت ہو گی۔